Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رؤف رحیم کے اشعار

168
Favorite

باعتبار

نرس کو دیکھ کے آ جاتی ہے منہ پہ رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

ملت کی آبرو کو ملاتا ہے خاک میں

لیڈر ہمارا کتنا بڑا خاکسار ہے

اپنے استاد کے شعروں کا تیا پانچہ کیا

اے رحیم آپ کے فن میں یہ کمال اچھا ہے

نہیں ہے بحر میں بے وزن ہے رحیمؔ مگر

ہماری شاعری سر میں ہے اور تال میں ہے

ملے گی سیٹ الیکشن میں آپ کو اک دن

اگر یہ چمچہ گری کامیاب ہو جائے

سارے احباب میں بد نام تمہیں کر دے گی

اپنے احوال پڑوسن سے چھپا کر رکھنا

چاند سورج زمیں سے اگتے ہیں

شاعری جب جدید ہوتی ہے

بد شکل ہے ضعیف ہے دلہن تو کیا ہوا

لاکھوں کی جائیداد بھی میری نظر میں ہے

نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے

کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے

اگر تو کانا راجہ ہے تو اندھوں کا بنا حلقہ

تو اپنی شاعری کے واسطے میدان پیدا کر

قائل ہیں ذائقے کے غرض کیا ہے رنگ سے

دستر پہ دیکھتے ہی نہیں ہم مٹن کا رنگ

سارے اساتذہ سے چراؤ سخن کا رنگ

گر کچھ نکھارنا ہو تمہیں اپنے فن کا رنگ

ہے بجٹ گھاٹے میں جرمانے ضروری ہیں یہاں

اس لیے سرکار میری لوٹ کر کھانے کو ہے

جب سے رخصت ہوا شباب رحیمؔ

تب سے میں مائل خضاب ہوا

غصہ نکالتا ہے جو عملے پہ اے رحیمؔ

افسر عجب نہیں ہے کہ بیگم کے ڈر میں ہے

ہے حماقت رحیمؔ شادی بھی

اس سے مٹی پلید ہوتی ہے

دور تک نام کی تشہیر اگر ہے منظور

جاری تنقید ادیبوں پہ برابر رکھنا

کرو نہ اتنا تکبر جمال پر اپنے

ملو گی ہاتھ جو رخصت شباب ہو جائے

اسکول کی تعلیم نے گل ایسا کھلایا

اب آنکھیں دکھاتا ہے بھتیجا مرے آگے

غریبوں کا بہا کر خون ہمدردی جتاتے ہو

کھلونے ہاتھ میں دے دے کے بہلایا نہیں کرتے

مردہ بتا کے زندوں کو پہنچایا مردہ گھر

کتنا بڑا کمال مرے ڈاکٹر میں ہے

بھروسے پر کسی لیڈر کے رہنا اک حماقت ہے

یہ سوکھے پیڑ ہیں یارو کبھی سایہ نہیں کرتے

حوروں پہ ہے نگاہ گو مرقد میں پاؤں ہیں

واعظ اخیر عمر میں کیا تیرا ڈھنگ ہے

ترنم میں گویے کی طرح سے تان پیدا کر

نئے انداز سے شعروں میں اپنے جان پیدا کر

ساری غزلیں سنا کے چھوڑا ہے

اس سے ملنا تو اک عذاب ہوا

خدا نخواستہ وہ بے نقاب ہو جائے

تو زندگانی ہماری عذاب ہو جائے

مجھ سے بیگم کا تقابل تو فقط اتنا ہے

میں دیا ہوں تو وہ طوفان خدا خیر کرے

سوکھے پیڑوں کی طرح یہ لیڈر

ہم پہ سایہ ذرا نہیں کرتے

اب ترنم کی روایت بھی پرانی ہو گئی

ایک شاعر اپنی غزلیں ساز پر گانے کو ہے

لیڈر کی یہ پہچان کہ وہ پھولتا جائے

شاعر کی یہ پہچان کہ موٹا نہیں ہوتا

گر لاٹری اٹھ جائے تو کیا ٹھاٹ سے گزرے

یہ خواب ہے اندھوں کا جو پورا نہیں ہوتا

Recitation

بولیے