رؤف رحیم کے اشعار
ملت کی آبرو کو ملاتا ہے خاک میں
لیڈر ہمارا کتنا بڑا خاکسار ہے
اپنے استاد کے شعروں کا تیا پانچہ کیا
اے رحیم آپ کے فن میں یہ کمال اچھا ہے
نہیں ہے بحر میں بے وزن ہے رحیمؔ مگر
ہماری شاعری سر میں ہے اور تال میں ہے
اگر تو کانا راجہ ہے تو اندھوں کا بنا حلقہ
تو اپنی شاعری کے واسطے میدان پیدا کر
قائل ہیں ذائقے کے غرض کیا ہے رنگ سے
دستر پہ دیکھتے ہی نہیں ہم مٹن کا رنگ
سارے اساتذہ سے چراؤ سخن کا رنگ
گر کچھ نکھارنا ہو تمہیں اپنے فن کا رنگ
نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے
کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے
ترنم میں گویے کی طرح سے تان پیدا کر
نئے انداز سے شعروں میں اپنے جان پیدا کر