Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رؤف رحیم کے اشعار

153
Favorite

باعتبار

نرس کو دیکھ کے آ جاتی ہے منہ پہ رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

ملت کی آبرو کو ملاتا ہے خاک میں

لیڈر ہمارا کتنا بڑا خاکسار ہے

اپنے استاد کے شعروں کا تیا پانچہ کیا

اے رحیم آپ کے فن میں یہ کمال اچھا ہے

نہیں ہے بحر میں بے وزن ہے رحیمؔ مگر

ہماری شاعری سر میں ہے اور تال میں ہے

سارے احباب میں بد نام تمہیں کر دے گی

اپنے احوال پڑوسن سے چھپا کر رکھنا

اگر تو کانا راجہ ہے تو اندھوں کا بنا حلقہ

تو اپنی شاعری کے واسطے میدان پیدا کر

قائل ہیں ذائقے کے غرض کیا ہے رنگ سے

دستر پہ دیکھتے ہی نہیں ہم مٹن کا رنگ

سارے اساتذہ سے چراؤ سخن کا رنگ

گر کچھ نکھارنا ہو تمہیں اپنے فن کا رنگ

نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے

کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے

دور تک نام کی تشہیر اگر ہے منظور

جاری تنقید ادیبوں پہ برابر رکھنا

ترنم میں گویے کی طرح سے تان پیدا کر

نئے انداز سے شعروں میں اپنے جان پیدا کر

سوکھے پیڑوں کی طرح یہ لیڈر

ہم پہ سایہ ذرا نہیں کرتے

Recitation

Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

بولیے