رازی ابوذر کے اشعار
شفق کا رنگ سکوں ہے سحر کے چہرے پر
کہ گیسوئے شب غم بے قرار ہے اب تک
کسی سے مل کے کسی کو برا سا لگتا ہے
بڑا گناہ ہے گرچہ ذرا سا لگتا ہے
رابطے ٹوٹے ہیں رشتے رہ گئے ہیں نام کے
تلخیاں حائل دلوں کے درمیاں ہوتی گئیں
جلا ہے پردۂ شب میں ہجوم پروانہ
برہنہ شمع مگر بے قرار ہے اب تک
سر خامشی یہ سجاوٹیں اسی رنگ و بو کی مثال ہیں
جو مہک ہو قبر کے پھول میں جو چمک ہو شمع مزار میں
چپہ چپہ کونا کونا شہر کا ہم نے چھانا ہے
وقت نے کروٹ بدلی اب ہر موڑ یہاں انجانا ہے
جب زباں رکھی ہے میں نے حلقۂ زنجیر میں
تب کہیں آئی ہے شدت شعر کی تاثیر میں
ترا یہ ضابطۂ احتجاج اچھا ہے
کہ رنج ہو کے بھی کہنا مزاج اچھا ہے