Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Razi Abuzar's Photo'

رازی ابوذر

1987 | نوئیڈا, انڈیا

شاعر، مترجم اور شش ماہی مجلہ ’افہام‘ کے مدیر

شاعر، مترجم اور شش ماہی مجلہ ’افہام‘ کے مدیر

رازی ابوذر کے اشعار

شفق کا رنگ سکوں ہے سحر کے چہرے پر

کہ گیسوئے شب غم بے قرار ہے اب تک

کسی سے مل کے کسی کو برا سا لگتا ہے

بڑا گناہ ہے گرچہ ذرا سا لگتا ہے

رابطے ٹوٹے ہیں رشتے رہ گئے ہیں نام کے

تلخیاں حائل دلوں کے درمیاں ہوتی گئیں

جلا ہے پردۂ شب میں ہجوم پروانہ

برہنہ شمع مگر بے قرار ہے اب تک

سر خامشی یہ سجاوٹیں اسی رنگ و بو کی مثال ہیں

جو مہک ہو قبر کے پھول میں جو چمک ہو شمع مزار میں

چپہ چپہ کونا کونا شہر کا ہم نے چھانا ہے

وقت نے کروٹ بدلی اب ہر موڑ یہاں انجانا ہے

جب زباں رکھی ہے میں نے حلقۂ زنجیر میں

تب کہیں آئی ہے شدت شعر کی تاثیر میں

حجابانہ آ کر وہ چلتے بنے

مجھے عشق کا وسوسہ رہ گیا

ترا یہ ضابطۂ احتجاج اچھا ہے

کہ رنج ہو کے بھی کہنا مزاج اچھا ہے

Recitation

بولیے