Saail Dehlvi's Photo'

سائل دہلوی

1864 - 1945 | دلی, ہندوستان

163
Favorite

باعتبار

معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی

بھاتا ہی نہیں اب انہیں افسانہ کسی کا

خط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے

یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا

محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہا

کن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھا

ہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سے

نہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پر

جھڑی ایسی لگا دی ہے مرے اشکوں کی بارش نے

دبا رکھا ہے بھادوں کو بھلا رکھا ہے ساون کو

آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو

نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیں

یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے

جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

ہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا

اسی زمانے میں قصے اسی زمانے کے

جناب شیخ مے خانہ میں بیٹھے ہیں برہنہ سر

اب ان سے کون پوچھے آپ نے پگڑی کہاں رکھ دی

شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے

خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں

کھل گئی شمع تری ساری کرامات جمال

دیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیں

تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامی

نظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

تمہیں پروا نہ ہو مجھ کو تو جنس دل کی پروا ہے

کہاں ڈھونڈوں کہاں پھینکی کہاں دیکھوں کہاں رکھ دی