Saeed Qais's Photo'

سعید قیس

- 2018 | بحرین

سعید قیس کے اشعار

میں بھی اپنی ذات میں آباد ہوں

میرے اندر بھی قبیلے ہیں بہت

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

تجھ کو دیکھا ہے تو تجھ سا نہیں دیکھا میں نے

یہ واقعہ مری آنکھوں کے سامنے کا ہے

شراب ناچ رہی تھی گلاس بیٹھے رہے

تم اپنے دریا کا رونا رونے آ جاتے ہو

ہم تو اپنے سات سمندر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

تم سے ملنے کا بہانہ تک نہیں

اور بچھڑ جانے کے حیلے ہیں بہت

چہرہ چہرہ غم ہے اپنے منظر میں

اور آنکھوں کے پیچھے ایک نمائش ہے

طلب کے راستے پر آ گیا ہوں

بتاؤ اب مجھے جانا کہاں ہے

اپنی آواز سنائی نہیں دیتی مجھ کو

ایک سناٹا کہ گلیوں میں بہت بولتا ہے

اسی کے لطف سے بستی نہال ہے ساری

تمام پیڑ لگائے ہوئے اسی کے ہیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے