سحر علیگ کے اشعار
شرم و حیا نے باز رکھا اس قدر ہمیں
سایا بھی ان کا دیکھ کے ہم سرنگوں کریں
ایک موتی ہوں میں موتی بھی بڑا قیمتی ہوں
پر وہ موتی جو ابھی گم ہے سمندر میں کہیں
شاہزادے ہوں ولی ہوں کہ سخن دان شہر
جب وہ دکھتا ہے کوئی اور کہاں دکھتا ہے
یہ جبر ہے عزت ہے محبت ہے کہ کیا ہے
بنتی ہی نہیں آپ سے انکار کی صورت
ڈھل گئی وصل کی شب ڈوب گیا دل کا چراغ
اب وہیں بیٹھے رہیں آپ جہاں تھے بیٹھے
میں دنیا چاہتی ہوں نہ دنیا کی رفعتیں
میری طلب نجات ہے بس اور کچھ نہیں
ڈھونڈا کیے خدا کو مگر مل نہیں سکا
مسجد میں بت کدے میں کلیسا میں دیر میں