aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sahir Dehlavi's Photo'

ساحر دہلوی

1863 - 1962 | دلی, انڈیا

ساحر دہلوی کے اشعار

986
Favorite

باعتبار

مل ملا کے دونوں نے دل کو کر دیا برباد

حسن نے کیا بے خود عشق نے کیا آزاد

شعر کیا ہے آہ ہے یا واہ ہے

جس سے ہر دل کی ابھر آتی ہے چوٹ

یوں تو ہر دین میں ہے صاحب ایماں ہونا

ہم کو اک بت نے سکھایا ہے مسلماں ہونا

کتاب درس مجنوں مصحف رخسار لیلیٰ ہے

حریف نکتہ دان عشق کو مکتب سے کیا مطلب

ازل سے ہم نفسی ہے جو جان جاں سے ہمیں

پیام دم بدم آتا ہے لا مکاں سے ہمیں

غم موجود غلط اور غم فردا باطل

راحت اک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں

تھا انا الحق لب منصور پہ کیا آپ سے آپ

تھا جو پردے میں چھپا بول اٹھا آپ سے آپ

وا ہوتے ہیں مستی میں خرابات کے اسرار

رندی مرا ایمان ہے مستی ہے مرا فرض

نقش قدم ہیں راہ میں فرہاد و قیس کے

اے عشق کھینچ کر مجھے لایا ادھر کہاں

عہد‌ میثاق کا لازم ہے ادب اے واعظ

ہے یہ پیمان وفا رشتۂ زنار نہ توڑ

جو لا مذہب ہو اس کو ملت و مشرب سے کیا مطلب

مرا مشرب ہے رندی رند کو مذہب سے کیا مطلب

میں دیوانہ ہوں اور دیر و حرم سے مجھ کو وحشت ہے

پڑی رہنے دو میرے پاؤں میں زنجیر مے خانہ

اے پری رو ترے دیوانے کا ایماں کیا ہے

اک نگاہ غلط انداز پہ قرباں ہونا

کیا شوق کا عالم تھا کہ ہاتھوں سے اڑا خط

دل تھام کے اس شوخ کو لکھنے جو لگا خط

ہم گدائے در مے خانہ ہیں اے پیر مغاں

کام اپنا ترے صدقہ میں چلا لیتے ہیں

پابندئ احکام شریعت ہے وہاں فرض

رندوں کو رخ ساقی و ساغر ہوئے مخصوص

ہے صنم خانہ مرا پیمان عشق

ذوق مے خانہ مجھے سامان عشق

کونین عین علم میں ہے جلوہ گاہ حسن

جیب خرد سے عینک عرفاں نکالئے

آتے ہوئے اس تن میں نہ جاتے ہوئے تن سے

ہے جان مکیں کو نہ لگاوٹ نہ رکاوٹ

بے نشاں ساحر نشاں میں آ کے شاید بن گیا

لا مکاں ہو کر مکاں میں خود مکیں ہوتا رہا

قدم ہے عین حدوث اور حدوث عین قدم

جو تو نہ جلوہ میں آتا تو میں کہاں ہوتا

قلزم فکر میں ہے کشتئ ایماں سالم

نا خدا حسن ہے اور عشق ہے لنگر اپنا

عیاں علیمؔ سے ہے جسم و جان کا الحاق

مکیں مکاں میں نہ ہوتا تو لا مکاں ہوتا

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے