Saifuddin Saif's Photo'

سیف الدین سیف

1922 - 1993 | لاہور, پاکستان

پاکستانی شاعر اور نغمہ نگار

پاکستانی شاعر اور نغمہ نگار

946
Favorite

باعتبار

سیفؔ انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

کیا قیامت ہے ہجر کے دن بھی

زندگی میں شمار ہوتے ہیں

دل ویراں کو دیکھتے کیا ہو

یہ وہی آرزو کی بستی ہے

تمہارے بعد خدا جانے کیا ہوا دل کو

کسی سے ربط بڑھانے کا حوصلہ نہ ہوا

تم کو بیگانے بھی اپناتے ہیں میں جانتا ہوں

میرے اپنے بھی پرائے ہیں تمہیں کیا معلوم

آج کی رات وہ آئے ہیں بڑی دیر کے بعد

آج کی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

شور دن کو نہیں سونے دیتا

شب کو سناٹا جگا دیتا ہے

زندگی کس طرح کٹے گی سیفؔ

رات کٹتی نظر نہیں آتی

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے

مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

غم گسارو بہت اداس ہوں میں

آج بہلا سکو تو آ جاؤ

جس دن سے بھلا دیا ہے تو نے

آتا ہی نہیں خیال اپنا

بولے وہ کچھ ایسی بے رخی سے

دل ہی میں رہا سوال اپنا

کتنا بیکار تمنا کا سفر ہوتا ہے

کل کی امید پہ ہر آج بسر ہوتا ہے

کبھی جگر پہ کبھی دل پہ چوٹ پڑتی ہے

تری نظر کے نشانے بدلتے رہتے ہیں

جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی

ہاں مجھے تلخئ حالات پہ رونا آیا

ہمیں خبر ہے وہ مہمان ایک رات کا ہے

ہمارے پاس بھی سامان ایک رات کا ہے

حسن جلوہ دکھا گیا اپنا

عشق بیٹھا رہا اداس کہیں

شاید تمہارے ساتھ بھی واپس نہ آ سکیں

وہ ولولے جو ساتھ تمہارے چلے گئے

چلو میکدے میں بسیرا ہی کر لو

نہ آنا پڑے گا نہ جانا پڑے گا

کتنے انجان ہیں کیا سادگی سے پوچھتے ہیں

کہیے کیا میری کسی بات پہ رونا آیا

پاس آئے تو اور ہو گئے دور

یہ کتنے عجیب فاصلے ہیں

تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو

لوگ افسانہ بنائیں گے تمہیں

کوئی ایسا اہل دل ہو کہ فسانۂ محبت

میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے

میرا ہونا بھی کوئی ہونا ہے

میری ہستی بھی کوئی ہستی ہے

ایسے لمحے بھی گزارے ہیں تری فرقت میں

جب تری یاد بھی اس دل پہ گراں گزری ہے

سیفؔ پی کر بھی تشنگی نہ گئی

اب کے برسات اور ہی کچھ تھی

اپنی وسعت میں کھو چکا ہوں میں

راہ دکھلا سکو تو آ جاؤ

دل ناداں تری حالت کیا ہے

تو نہ اپنوں میں نہ بیگانوں میں

کیوں اجڑ جاتی ہے دل کی محفل

یہ دیا کون بجھا دیتا ہے

آپ ٹھہرے ہیں تو ٹھہرا ہے نظام عالم

آپ گزرے ہیں تو اک موج رواں گزری ہے

دشمن گئے تو کشمکش دوستی گئی

دشمن گئے کہ دوست ہمارے چلے گئے

یہ آلام ہستی یہ دور زمانہ

تو کیا اب تمہیں بھول جانا پڑے گا

تھکی تھکی سی فضائیں بجھے بجھے تارے

بڑی اداس گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

رات گزرے نہ درد دل ٹھہرے

کچھ تو بڑھ جائے کچھ تو گھٹ جائے

کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں

اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا

دل نے پایا قرار پہلو میں

گردش کائنات ختم ہوئی

قریب نزع بھی کیوں چین لے سکے کوئی

نقاب رخ سے اٹھا لو تمہیں کسی سے کیا

اس مسافر کی نقاہت کا ٹھکانہ کیا ہے

سنگ منزل جسے دیوار نظر آنے لگے

پھول اس خاکداں کے ہم بھی ہیں

مدعی دو جہاں کے ہم بھی ہیں