Sehr Ishqabadi's Photo'

سحر عشق آبادی

1903 - 1978

غزل 11

اشعار 7

آہ کرتا ہوں تو آتی ہے پلٹ کر یہ صدا

عاشقوں کے واسطے باب اثر کھلتا نہیں

وہ درد ہے کہ درد سراپا بنا دیا

میں وہ مریض ہوں جسے عیسیٰ بھی چھوڑ دے

حسن کا ہر خیال روشن ہے

عشق کا مدعا کسے معلوم

  • شیئر کیجیے

ایک ہم ہیں رات بھر کروٹ بدلتے ہی کٹی

ایک وہ ہیں دن چڑھے تک جن کا در کھلتا نہیں

پہلی سی لذتیں نہیں اب درد عشق میں

کیوں دل کو میں نے ظلم کا خوگر بنا دیا

کتاب 1

گلبانگ

 

1965

 

آڈیو 5

جب سبق دے انہیں آئینہ خود_آرائی کا

جس سے وفا کی تھی امید اس نے ادا کیا یہ حق

حسینوں کے تبسم کا تقاضا اور ہی کچھ ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI