شبینہ ادیب کے اشعار
بس مجھے بے وفا کہہ دیجئے مر جاؤں گی
آپ پر قتل کی تہمت بھی نہیں آئے گی
حال کیا دل کا ہے اظہار سے روشن ہوگا
یعنی کردار تو کردار سے روشن ہوگا
مجھے دیکھنا ہے کس سے مرا شہر ہوگا روشن
وہ مکاں جلا رہے ہیں میں دیے جلا رہی ہوں
رات دن آپ چراغوں کو جلاتے کیوں ہیں
گھر چراغوں سے نہیں پیار سے روشن ہوگا