شبینہ ادیب کا تعارف
شبینہ ادیب عہدِ حاضر کی معروف اور مقبول شاعرہ ہیں، جنہیں برصغیر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مشاعروں میں بے حد محبت اور پذیرائی حاصل ہے۔ اپنی منفرد طرزِ بیان، پُراثر لہجے اور دل کو چھو لینے والی شاعری کے باعث وہ آج کی اردو شاعری کا ایک معتبر حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی آواز کی مٹھاس اور اندازِ ترنم نے انہیں عالمی سطح پر ایک ممتاز مقام عطا کیا ہے۔
شبینہ ادیب 27 دسمبر 1974 کو کانپور، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اردو ادب میں گریجویشن اور معلم کی تعلیم حاصل کی۔ کم عمری ہی سے شعر و ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور تقریباً 15 برس کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا۔ 1994 میں پہلی بار آل انڈیا مشاعرے میں شرکت کی، جس کے بعد ان کا سفرِ شاعری مسلسل کامیابیوں کی طرف گامزن رہا۔ معروف شاعر حق بنارسی مرحوم کو وہ اپنا ادبی استاد اور رہنما مانتی ہیں۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ "تم مرے پاس رہو" 2007 میں شائع ہوا جسے قارئین میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ شبینہ ادیب نے دنیا کے متعدد ممالک جیسے سعودی عرب، دبئی، قطر، کویت، بحرین، نیپال، عمان اور ملائیشیا وغیرہ میں مشاعروں میں شرکت کر کے محبت، امن اور اردو زبان کے فروغ کا پیغام عام کیا ہے۔
شبینہ ادیب کی شخصیت سادگی، وقار اور ادبی سنجیدگی کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے پسندیدہ شعرا میں میر تقی میر، غالب اور جوش ملیح آبادی شامل ہیں۔ وہ مطالعے کو اپنا بہترین دوست مانتی ہیں۔ 1997 میں ان کی شادی جوہر کانپوری سے ہوئی اور ان کی ایک صاحبزادی طوبیٰ جوہر ہیں۔
اردو شاعری کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد ادبی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ آج بھی وہ پوری توانائی اور لگن کے ساتھ مشاعروں اور ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور لاکھوں مداحوں کے دلوں پر راج کر رہی ہیں۔