Shahid Meer's Photo'

ہندوستانی موسیقی کے ماہر اور گلوکار

ہندوستانی موسیقی کے ماہر اور گلوکار

شجر نے لہلہا کر اور ہوا نے چوم کر مجھ کو

تری آمد کے افسانے سنائے جھوم کر مجھ کو

پہلے تو چھین لی مری آنکھوں کی روشنی

پھر آئینے کے سامنے لایا گیا مجھے

تجھ کو دیکھا نہیں محسوس کیا ہے میں نے

آ کسی دن مرے احساس کو پیکر کر دے

اور کچھ بھی مجھے درکار نہیں ہے لیکن

میری چادر مرے پیروں کے برابر کر دے

گنوائے بیٹھے ہیں آنکھوں کی روشنی شاہدؔ

جہاں پناہ کا انصاف دیکھنے والے

بجھتی ہوئی سی ایک شبیہ ذہن میں لیے

مٹتی ہوئی ستاروں کی صف دیکھتے رہے

رونے سے اور لطف وفاؤں کا بڑھ گیا

سب ذائقہ پھلوں میں نئے پانیوں کا ہے

وہی سفاک ہواؤں کا صدف بنتے ہیں

جن درختوں کا نکلتا ہوا قد ہوتا ہے