Shakeel Badayuni's Photo'

شکیل بدایونی

1916 - 1970 | ممبئی, ہندوستان

معروف فلم گیت کار اور شاعر

معروف فلم گیت کار اور شاعر

غزل

آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیا

فہد حسین

اب تک شکایتیں ہیں دل_بد_نصیب سے

نعمان شوق

ابھی جذبۂ_شوق کامل نہیں ہے

نعمان شوق

اس درجہ بد_گماں ہیں خلوص_بشر سے ہم

نعمان شوق

ان سے امید_رو_نمائی ہے

نعمان شوق

اک اک قدم فریب_تمنا سے بچ کے چل

نعمان شوق

اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیں

فہد حسین

اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیں

نعمان شوق

بس اک نگاہ_کرم ہے کافی اگر انہیں پیش_و_پس نہیں ہے

نعمان شوق

پیہم تلاش_دوست میں کرتا چلا گیا

نعمان شوق

تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھے

نعمان شوق

تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیا

نعمان شوق

تہمید_ستم اور ہے تکمیل_جفا اور

نعمان شوق

جب کبھی ہم ترے کوچے سے گزر جاتے ہیں

نعمان شوق

جذبات کی رو میں بہہ گیا ہوں

نعمان شوق

جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں

نعمان شوق

حقیقت_غم_الفت چھپا رہا ہوں میں

نعمان شوق

دل مرکز_حجاب بنایا نہ جائے_گا

نعمان شوق

دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوں

نعمان شوق

روشنی سایۂ_ظلمات سے آگے نہ بڑھی

نعمان شوق

زمیں پر فصل_گل آئی فلک پر ماہتاب آیا

نعمان شوق

زندگی کا درد لے کر انقلاب آیا تو کیا

نعمان شوق

شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا

نعمان شوق

شکوۂ_اضطراب کون کرے

نعمان شوق

غم_عشق رہ گیا ہے غم_جستجو میں ڈھل کر

نعمان شوق

لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر

نعمان شوق

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں

نعمان شوق

موسم_گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا

نعمان شوق

نگاہ_ناز کا اک وار کر کے چھوڑ دیا

نعمان شوق

کسی کو جب نگاہوں کے مقابل دیکھ لیتا ہوں

نعمان شوق

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے

نعمان شوق

ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے

نعمان شوق

آج پھر گردش_تقدیر پہ رونا آیا

نعمان شوق

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

نعمان شوق

اٹھی پھر دل میں اک موج_شباب آہستہ آہستہ

نعمان شوق

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

نعمان شوق

پہلو میں درد_عشق کی دنیا لیے ہوئے

نعمان شوق

تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا

نعمان شوق

تری محفل سے اٹھ کر عشق کے ماروں پہ کیا گزری

نعمان شوق

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے

نعمان شوق

چاندنی میں رخ_زیبا نہیں دیکھا جاتا

نعمان شوق

سرگزشت_دل کو روداد_جہاں سمجھا تھا میں

نعمان شوق

شکوے ترے حضور کئے جا رہا ہوں میں

نعمان شوق

غم_حیات بھی آغوش_حسن_یار میں ہے

نعمان شوق

غم_عاشقی سے کہہ دو رہ_عام تک نہ پہنچے

نعمان شوق

لا رہا ہے مے کوئی شیشے میں بھر کے سامنے

نعمان شوق

مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکارا

نعمان شوق

نظر سے قید_تعین اٹھائی جاتی ہے

نعمان شوق

نظر_نواز نظاروں میں جی نہیں لگتا

نعمان شوق

نیاز_و_ناز کی یہ شان_زیبائی نہیں جاتی

نعمان شوق

وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں

نعمان شوق

ہنگامۂ_غم سے تنگ آ کر اظہار_مسرت کر بیٹھے

نعمان شوق

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI