Shakeel Badayuni's Photo'

شکیل بدایونی

1916 - 1970 | ممبئی, انڈیا

معروف فلم گیت کار اور شاعر

معروف فلم گیت کار اور شاعر

شکیل بدایونی کی ٹاپ ٢٠ شاعری

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

کیسے کہہ دوں کہ ملاقات نہیں ہوتی ہے

روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے

ان کا ذکر ان کی تمنا ان کی یاد

وقت کتنا قیمتی ہے آج کل

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

میں ہوں درد عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے

کبھی یک بہ یک توجہ کبھی دفعتاً تغافل

مجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کر

مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے

یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

انہیں اپنے دل کی خبریں مرے دل سے مل رہی ہیں

میں جو ان سے روٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے

محبت ہی میں ملتے ہیں شکایت کے مزے پیہم

محبت جتنی بڑھتی ہے، شکایت ہوتی جاتی ہے

مجھے چھوڑ دے میرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر

یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے

ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح

اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی

یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک

مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے

نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے

یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے

میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دی

ترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے

میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں

مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے

دل کی بربادیوں پہ نازاں ہوں

فتح پا کر شکست کھائی ہے

دل کی طرف شکیلؔ توجہ ضرور ہو

یہ گھر اجڑ گیا تو بسایا نہ جائے گا

وہ ہوا دے رہے ہیں دامن کی

ہائے کس وقت نیند آئی ہے

نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے

نئی دنیا کے رندوں میں خدا کا نام چلتا ہے

غم حیات بھی آغوش حسن یار میں ہے

یہ وہ خزاں ہے جو ڈوبی ہوئی بہار میں ہے

اٹھا جو مینا بدست ساقی رہی نہ کچھ تاب ضبط باقی

تمام مے کش پکار اٹھے یہاں سے پہلے یہاں سے پہلے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے