بے نیازی شاعری

بے نیازی زندگی کی ایک اہم ترین قدر ہے کہ آدمی اپنی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے اپنی ذات تک ہی محدود ہوجائے حالانکہ اس کی بھی کچھ حدیں اور کچھ خاص صورتیں ہیں ۔ شاعری میں بے نیازی کے مضمون کا بنیادی حوالہ معشوق ہے کہ وہ عاشق سے اپنی بے نیازی کا اظہار کرتا ہے اور اس کی طرف سے اپنی ساری توجہ پھیر لیتا ہے ۔ شاعروں نے بے نیازی کے اس مضمون کو اور زیادہ وسیع کرتے ہوئے خدا سے جوڑ کر بھی دیکھا ہے اور گہرے طنز کئے ہیں ۔

یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک

مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے

شکیل بدایونی

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک

ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا

All bounds, your callousness exceeds, do tell me until when

My feelings I keep pouring out, your asking me what then?

مرزا غالب

عاشقوں کی خستگی بد حالی کی پروا نہیں

اے سراپا ناز تو نے بے نیازی خوب کی

میر تقی میر

مجھے اب دیکھتی ہے زندگی یوں بے نیازانہ

کہ جیسے پوچھتی ہو کون ہو تم جستجو کیا ہے

اختر سعید خان

کیا آج کل سے اس کی یہ بے توجہی ہے

منہ ان نے اس طرف سے پھیرا ہے میرؔ کب کا

میر تقی میر

ساری دنیا سے بے نیازی ہے

واہ اے مست ناز کیا کہنا

اثر صہبائی

متعلقہ موضوعات