Tahir Azeem's Photo'

طاہر عظیم

1978 | بحرین

طاہر عظیم کی اشعار

912
Favorite

باعتبار

جو ترے انتظار میں گزرے

بس وہی انتظار کے دن تھے

شہر کی اس بھیڑ میں چل تو رہا ہوں

ذہن میں پر گاؤں کا نقشہ رکھا ہے

یہ جو ماضی کی بات کرتے ہیں

سوچتے ہوں گے حال سے آگے

مجھ کو بھی حق ہے زندگانی کا

میں بھی کردار ہوں کہانی کا

برسوں پہلے جس دریا میں اترا تھا

اب تک اس کی گہرائی ہے آنکھوں میں

سوچ اپنی ذات تک محدود ہے

ذہن کی کیا یہ تباہی کچھ نہیں

میں ترے ہجر میں جو زندہ ہوں

سوچتا ہوں وصال سے آگے

میں ترے ہجر کی گرفت میں ہوں

ایک صحرا ہے مبتلا مجھ میں

رہتا ہے ذہن و دل میں جو احساس کی طرح

اس کا کوئی پتا بھی ضروری نہیں کہ ہو

ان باتوں پر مت جانا جو عام ہوئیں

دیکھو کتنی سچائی ہے آنکھوں میں

تاثیر نہیں رہتی الفاظ کی بندش میں

میں سچ جو نہیں کہتا لہجے کا اثر جاتا

تم ہمارے خون کی قیمت نہ پوچھو

اس میں اپنے ظرف کا عرصہ رکھا ہے

جو بہت بے قرار رکھتے تھے

ہاں وہی تو قرار کے دن تھے

تیرگی کی کیا عجب ترکیب ہے یہ

اب ہوا کے دوش پر دیوا رکھا ہے