طالب دہلوی
اشعار 5
شیخ حرم کا ذکر نہیں ہے مرے ندیم
پیر مغاں کے کشف و کرامت کی بات ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
بت خانے میں بھی نور خدا دیکھتا ہوں میں
جی ہاں یہ میرے حسن عقیدت کی بات ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
بشر مٹی کا پتلا ہی سہی زیر فلک طالبؔ
محبت سے مگر یہ خاک بھی اکسیر بنتی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وہ مشت خاک جو پروانۂ دلگیر بنتی ہے
جگر کی آگ بجھ جاتی ہے جب اکسیر بنتی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کچھ اس کا فطرت آزاد پر قابو نہیں چلتا
یہ دنیا تو ہر اک کے پاؤں کی زنجیر بنتی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے