Shaz Tamkanat's Photo'

شاذ تمکنت

1933 - 1985 | حیدر آباد, ہندوستان

حیدرآباد کے ممتاز شاعر

حیدرآباد کے ممتاز شاعر

شاذ تمکنت

غزل 68

اشعار 11

مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے

تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے

ان سے ملتے تھے تو سب کہتے تھے کیوں ملتے ہو

اب یہی لوگ نہ ملنے کا سبب پوچھتے ہیں

  • شیئر کیجیے

کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں

لہو کا سلسلہ پیہم رہا ہے آنکھوں میں

زندگی ہم سے ترے ناز اٹھائے نہ گئے

سانس لینے کی فقط رسم ادا کرتے تھے

کوئی تو آ کے رلا دے کہ ہنس رہا ہوں میں

بہت دنوں سے خوشی کو ترس رہا ہوں میں

کتاب 10

بیاض شام

 

1973

کلیات شاذ تمکنت

 

2004

مخدوم محی الدین حیات اور کارنامے

 

1986

مخدوم محی الدین

حیات اور کارنامے

1986

نیم خواب

 

1977

تراشیدہ

 

1966

تراشیدہ

 

1966

ورق انتخاب

 

1981

شمارہ نمبر-005،006

1989

 

ویڈیو 5

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

شاذ تمکنت

شب_و_روز جیسے ٹھہر گئے کوئی ناز ہے نہ نیاز ہے

شاذ تمکنت

آڈیو 7

ذرا سی بات تھی بات آ گئی جدائی تک

کوئی تو آ کے رلا دے کہ ہنس رہا ہوں میں

آب و گل

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے

"حیدر آباد" کے مزید شعرا

  • امیر مینائی امیر مینائی
  • جلیل مانک پوری جلیل مانک پوری
  • غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
  • ولی عزلت ولی عزلت
  • مصحف اقبال توصیفی مصحف اقبال توصیفی
  • شفیق فاطمہ شعریٰ شفیق فاطمہ شعریٰ
  • خواجہ شوق خواجہ شوق
  • راشد آذر راشد آذر
  • شاہد صدیقی شاہد صدیقی
  • ریاست علی تاج ریاست علی تاج