Umar Ansari's Photo'

عمر انصاری

1912 - 2005 | لکھنؤ, ہندوستان

غزل 8

اشعار 12

مسافروں سے محبت کی بات کر لیکن

مسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کر

  • شیئر کیجیے

باہر باہر سناٹا ہے اندر اندر شور بہت

دل کی گھنی بستی میں یارو آن بسے ہیں چور بہت

چلے جو دھوپ میں منزل تھی ان کی

ہمیں تو کھا گیا سایہ شجر کا

برا سہی میں پہ نیت بری نہیں میری

مرے گناہ بھی کار ثواب میں لکھنا

چھپ کر نہ رہ سکے گا وہ ہم سے کہ اس کو ہم

پہچان لیں گے اس کی کسی اک ادا سے بھی

کتاب 11

حرف ناتمام

 

1978

حاصل کلام

 

1998

حاصل کلام

 

1998

کشید جہاں

 

1987

کلیات عمر انصاری

حصہ ۔ 001

2001

نقش دوام

 

1982

صنم کدہ

 

1973

ساز بیخودی

 

1965

ترانۂ نعت

 

1975

عمر انصاری

فن اور شخصیت ایک نظر میں

 

تصویری شاعری 2

مسافروں سے محبت کی بات کر لیکن مسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کر

مسافروں سے محبت کی بات کر لیکن مسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کر

 

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

  • مصحفی غلام ہمدانی مصحفی غلام ہمدانی
  • میر حسن میر حسن
  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش
  • امداد علی بحر امداد علی بحر
  • عرفان صدیقی عرفان صدیقی
  • جرأت قلندر بخش جرأت قلندر بخش
  • عزیز بانو داراب وفا عزیز بانو داراب وفا
  • میر انیس میر انیس
  • وزیر علی صبا لکھنؤی وزیر علی صبا لکھنؤی
  • ارشد علی خان قلق ارشد علی خان قلق