Shaz Tamkanat's Photo'

شاذ تمکنت

1933 - 1985 | حیدر آباد, انڈیا

حیدرآباد کے ممتاز شاعر

حیدرآباد کے ممتاز شاعر

شاذ تمکنت

غزل 68

نظم 15

اشعار 11

مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے

تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے

ان سے ملتے تھے تو سب کہتے تھے کیوں ملتے ہو

اب یہی لوگ نہ ملنے کا سبب پوچھتے ہیں

  • شیئر کیجیے

زندگی ہم سے ترے ناز اٹھائے نہ گئے

سانس لینے کی فقط رسم ادا کرتے تھے

کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں

لہو کا سلسلہ پیہم رہا ہے آنکھوں میں

کتاب حسن ہے تو مل کھلی کتاب کی طرح

یہی کتاب تو مر مر کے میں نے ازبر کی

کتاب 11

ویڈیو 4

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

شاذ تمکنت

شب_و_روز جیسے ٹھہر گئے کوئی ناز ہے نہ نیاز ہے

شاذ تمکنت

آڈیو 7

ذرا سی بات تھی بات آ گئی جدائی تک

کوئی تو آ کے رلا دے کہ ہنس رہا ہوں میں

آب و گل

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"حیدر آباد" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI