توحید زیب کے اشعار
رخ عالم کو پیش و پس نہ کر دیں یہ جنوں پیشہ
خدا نے آدمی کو وقفے وقفے سے پکارا ہے
رخ عالم کو پیش و پس نہ کر دیں یہ جنوں پیشہ
خدا نے آدمی کو وقفے وقفے سے پکارا ہے
ویران تو نے کر دیا گھر بار احتیاط
میں نے کہا بھی تھا کہ مرے یار احتیاط
کیا ہوا حسن جاوداں کو ترے
تو تو مجھ سے بچھڑ کے خوش تھی بہت
اکسا رہا ہے ترک تعلق پہ دل مجھے
جتنا بھی جلدی ہو سکے اے دوست مل مجھے
گلے سے لگ زباں کو چھو کوئی خواہش بھی پوری کر
دلاسوں سے کہاں غم کی فضا تبدیل ہوتی ہے
ہماری نیکیاں دریا کا پیٹ بھرتی ہیں
کوئی صلہ نہیں ملنا کسی کو دیکھنا تم
وہ دن کہاں گئے جب تو خدا بنا ہوا تھا
اے بے بسی میں خدا کو پکارنے والے
نظام زندگی بالکل الگ تشکیل ہوتا ہے
خلا میں روشنی کا ذائقہ تبدیل ہوتا ہے
بیٹھا ہوا ہوں تیرے برابر میں اس لیے
تیری چمک سے میرے ستارے چمک اٹھیں
میں نقش پا سہی مری اپنی سڑک تو ہے
مرکز سے چاہے دور ہوں مجھ میں چمک تو ہے
بکھرے گا کتنی دیر میں شیرازۂ حیات
آب و ہوا سے ہو گیا اندازۂ حیات
جہان خیر و شر میں تجربہ کیسا رہا اپنا
خدا سے گفتگو ہوگی دلوں کے راز کھولیں گے
تیری نظر سے دیکھیں تو دنیا حسین ہے
لیکن ہمیں نظر بھی تو آئے تری طرح
رخ عالم کو پیش و پس نہ کر دیں یہ جنوں پیشہ
خدا نے آدمی کو وقفے وقفے سے پکارا ہے
رموز وقت کی پہلی کلاس میں بھی مرا
تمام دھیان تھا سرکاری نوکری کی طرف
کھرچ کر سینۂ ملحد سبھی حیران ہیں توحیدؔ
خدا آباد ہے اک کوچۂ ویران کے نزدیک
کسی بدن کی سیر کے جنون میں غزل ہوئی
نہ کوئی شور تھا نہ شر سکون میں غزل ہوئی
اب اس ترک تعلق پر کسی کو کیا دلائل دیں
یہ چادر جب رفو ہوگی دلوں کے راز کھولیں گے
ہیئت سے ماورا ہے لسانی جمالیات
پانی کا اصل ذائقہ زیر نمک تو ہے
شعوری تجربے سے دن گزارنے والے
عجیب لوگ ہیں نقلیں اتارنے والے
میں نقش پا سہی مری اپنی سڑک تو ہے
مرکز سے چاہے دور ہوں مجھ میں چمک تو ہے
کسی مشکل گھڑی میں ہم تمہارا ساتھ چھوڑیں گے
تمہیں معلوم ہو جائے بشر کیا ہے خدا کیا ہے
ہم جو اظہار نہیں کرتے تو اس کا مطلب
تو سمجھتا ہے پریشان نہیں ہوتے ہیں