Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

توحید زیب کے اشعار

1
Favorite

باعتبار

رخ عالم کو پیش و پس نہ کر دیں یہ جنوں پیشہ

خدا نے آدمی کو وقفے وقفے سے پکارا ہے

رخ عالم کو پیش و پس نہ کر دیں یہ جنوں پیشہ

خدا نے آدمی کو وقفے وقفے سے پکارا ہے

ویران تو نے کر دیا گھر بار احتیاط

میں نے کہا بھی تھا کہ مرے یار احتیاط

تھوڑی تھوڑی ہمیں محبت تھی

اور باقی ہوس سے کام لیا

کیا ہوا حسن جاوداں کو ترے

تو تو مجھ سے بچھڑ کے خوش تھی بہت

اکسا رہا ہے ترک تعلق پہ دل مجھے

جتنا بھی جلدی ہو سکے اے دوست مل مجھے

گلے سے لگ زباں کو چھو کوئی خواہش بھی پوری کر

دلاسوں سے کہاں غم کی فضا تبدیل ہوتی ہے

ہماری نیکیاں دریا کا پیٹ بھرتی ہیں

کوئی صلہ نہیں ملنا کسی کو دیکھنا تم

اپنی تصویر چوم لی اس نے

پھول پر پھول کھل گیا جیسے

وہ دن کہاں گئے جب تو خدا بنا ہوا تھا

اے بے بسی میں خدا کو پکارنے والے

نظام زندگی بالکل الگ تشکیل ہوتا ہے

خلا میں روشنی کا ذائقہ تبدیل ہوتا ہے

بیٹھا ہوا ہوں تیرے برابر میں اس لیے

تیری چمک سے میرے ستارے چمک اٹھیں

میں نقش پا سہی مری اپنی سڑک تو ہے

مرکز سے چاہے دور ہوں مجھ میں چمک تو ہے

بکھرے گا کتنی دیر میں شیرازۂ حیات

آب و ہوا سے ہو گیا اندازۂ حیات

عمر گزری مگر محبت میں

ایک لمحہ بھی یادگار نہیں

جہان خیر و شر میں تجربہ کیسا رہا اپنا

خدا سے گفتگو ہوگی دلوں کے راز کھولیں گے

تیری نظر سے دیکھیں تو دنیا حسین ہے

لیکن ہمیں نظر بھی تو آئے تری طرح

رخ عالم کو پیش و پس نہ کر دیں یہ جنوں پیشہ

خدا نے آدمی کو وقفے وقفے سے پکارا ہے

رموز وقت کی پہلی کلاس میں بھی مرا

تمام دھیان تھا سرکاری نوکری کی طرف

بانجھ پن کا صلہ ملا اس کو

عمر بھر حسن برقرار رہا

یہ ہنر خود کمایا جاتا ہے

عاشقی خون میں نہیں ہوتی

سارے روشن خیال بیٹھے ہیں

مذہبی آدمی کا کیا ہوگا

کھرچ کر سینۂ ملحد سبھی حیران ہیں توحیدؔ

خدا آباد ہے اک کوچۂ ویران کے نزدیک

کسی بدن کی سیر کے جنون میں غزل ہوئی

نہ کوئی شور تھا نہ شر سکون میں غزل ہوئی

اب اس ترک تعلق پر کسی کو کیا دلائل دیں

یہ چادر جب رفو ہوگی دلوں کے راز کھولیں گے

ہیئت سے ماورا ہے لسانی جمالیات

پانی کا اصل ذائقہ زیر نمک تو ہے

تھوڑی تھوڑی ہمیں محبت تھی

اور باقی ہوس سے کام لیا

سارے روشن خیال بیٹھے ہیں

مذہبی آدمی کا کیا ہوگا

شعوری تجربے سے دن گزارنے والے

عجیب لوگ ہیں نقلیں اتارنے والے

میں نقش پا سہی مری اپنی سڑک تو ہے

مرکز سے چاہے دور ہوں مجھ میں چمک تو ہے

دیکھیے میری عمر ہی کیا ہے

ان کی خوشبو سے میں جوان ہوا

کسی مشکل گھڑی میں ہم تمہارا ساتھ چھوڑیں گے

تمہیں معلوم ہو جائے بشر کیا ہے خدا کیا ہے

دھوکا کھانے پہ رو پڑا ہوگا

یہ کوئی عشق میں نیا ہوگا

ہم جو اظہار نہیں کرتے تو اس کا مطلب

تو سمجھتا ہے پریشان نہیں ہوتے ہیں

دفتر حسن کھولے بیٹھے ہیں

عاشقی روزگار ہے ان کا

ایک ہی دن ملا محبت کو

سال بھر کی تھکن اتاری گئی

Recitation

بولیے