Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

توحید زیب کے اشعار

50
Favorite

باعتبار

کسی مشکل گھڑی میں ہم تمہارا ساتھ چھوڑیں گے

تمہیں معلوم ہو جائے بشر کیا ہے خدا کیا ہے

رخ عالم کو پیش و پس نہ کر دیں یہ جنوں پیشہ

خدا نے آدمی کو وقفے وقفے سے پکارا ہے

دھوکا کھانے پہ رو پڑا ہوگا

یہ کوئی عشق میں نیا ہوگا

گلے سے لگ زباں کو چھو کوئی خواہش بھی پوری کر

دلاسوں سے کہاں غم کی فضا تبدیل ہوتی ہے

اپنی تصویر چوم لی اس نے

پھول پر پھول کھل گیا جیسے

ہم جو اظہار نہیں کرتے تو اس کا مطلب

تو سمجھتا ہے پریشان نہیں ہوتے ہیں

تھوڑی تھوڑی ہمیں محبت تھی

اور باقی ہوس سے کام لیا

کیا ہوا حسن جاوداں کو ترے

تو تو مجھ سے بچھڑ کے خوش تھی بہت

اکسا رہا ہے ترک تعلق پہ دل مجھے

جتنا بھی جلدی ہو سکے اے دوست مل مجھے

دفتر حسن کھولے بیٹھے ہیں

عاشقی روزگار ہے ان کا

ایک ہی دن ملا محبت کو

سال بھر کی تھکن اتاری گئی

ویران تو نے کر دیا گھر بار احتیاط

میں نے کہا بھی تھا کہ مرے یار احتیاط

وہ دن کہاں گئے جب تو خدا بنا ہوا تھا

اے بے بسی میں خدا کو پکارنے والے

نظام زندگی بالکل الگ تشکیل ہوتا ہے

خلا میں روشنی کا ذائقہ تبدیل ہوتا ہے

بیٹھا ہوا ہوں تیرے برابر میں اس لیے

تیری چمک سے میرے ستارے چمک اٹھیں

جہان خیر و شر میں تجربہ کیسا رہا اپنا

خدا سے گفتگو ہوگی دلوں کے راز کھولیں گے

ہماری نیکیاں دریا کا پیٹ بھرتی ہیں

کوئی صلہ نہیں ملنا کسی کو دیکھنا تم

بکھرے گا کتنی دیر میں شیرازۂ حیات

آب و ہوا سے ہو گیا اندازۂ حیات

عمر گزری مگر محبت میں

ایک لمحہ بھی یادگار نہیں

تیری نظر سے دیکھیں تو دنیا حسین ہے

لیکن ہمیں نظر بھی تو آئے تری طرح

رخ عالم کو پیش و پس نہ کر دیں یہ جنوں پیشہ

خدا نے آدمی کو وقفے وقفے سے پکارا ہے

رموز وقت کی پہلی کلاس میں بھی مرا

تمام دھیان تھا سرکاری نوکری کی طرف

بانجھ پن کا صلہ ملا اس کو

عمر بھر حسن برقرار رہا

یہ ہنر خود کمایا جاتا ہے

عاشقی خون میں نہیں ہوتی

کھرچ کر سینۂ ملحد سبھی حیران ہیں توحیدؔ

خدا آباد ہے اک کوچۂ ویران کے نزدیک

کسی بدن کی سیر کے جنون میں غزل ہوئی

نہ کوئی شور تھا نہ شر سکون میں غزل ہوئی

اب اس ترک تعلق پر کسی کو کیا دلائل دیں

یہ چادر جب رفو ہوگی دلوں کے راز کھولیں گے

ہیئت سے ماورا ہے لسانی جمالیات

پانی کا اصل ذائقہ زیر نمک تو ہے

سارے روشن خیال بیٹھے ہیں

مذہبی آدمی کا کیا ہوگا

شعوری تجربے سے دن گزارنے والے

عجیب لوگ ہیں نقلیں اتارنے والے

دیکھیے میری عمر ہی کیا ہے

ان کی خوشبو سے میں جوان ہوا

Recitation

بولیے