توحید زیب کے اشعار
تیری نظر سے دیکھیں تو دنیا حسین ہے
لیکن ہمیں نظر بھی تو آئے تری طرح
رموز وقت کی پہلی کلاس میں بھی مرا
تمام دھیان تھا سرکاری نوکری کی طرف
ہیئت سے ماورا ہے لسانی جمالیات
پانی کا اصل ذائقہ زیر نمک تو ہے
ہم جو اظہار نہیں کرتے تو اس کا مطلب
تو سمجھتا ہے پریشان نہیں ہوتے ہیں
کیا ہوا حسن جاوداں کو ترے
تو تو مجھ سے بچھڑ کے خوش تھی بہت
اکسا رہا ہے ترک تعلق پہ دل مجھے
جتنا بھی جلدی ہو سکے اے دوست مل مجھے
گلے سے لگ زباں کو چھو کوئی خواہش بھی پوری کر
دلاسوں سے کہاں غم کی فضا تبدیل ہوتی ہے