Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

توحید زیب کے اشعار

باعتبار

تیری نظر سے دیکھیں تو دنیا حسین ہے

لیکن ہمیں نظر بھی تو آئے تری طرح

رموز وقت کی پہلی کلاس میں بھی مرا

تمام دھیان تھا سرکاری نوکری کی طرف

یہ ہنر خود کمایا جاتا ہے

عاشقی خون میں نہیں ہوتی

ہیئت سے ماورا ہے لسانی جمالیات

پانی کا اصل ذائقہ زیر نمک تو ہے

سارے روشن خیال بیٹھے ہیں

مذہبی آدمی کا کیا ہوگا

دیکھیے میری عمر ہی کیا ہے

ان کی خوشبو سے میں جوان ہوا

دھوکا کھانے پہ رو پڑا ہوگا

یہ کوئی عشق میں نیا ہوگا

ہم جو اظہار نہیں کرتے تو اس کا مطلب

تو سمجھتا ہے پریشان نہیں ہوتے ہیں

ایک ہی دن ملا محبت کو

سال بھر کی تھکن اتاری گئی

تھوڑی تھوڑی ہمیں محبت تھی

اور باقی ہوس سے کام لیا

کیا ہوا حسن جاوداں کو ترے

تو تو مجھ سے بچھڑ کے خوش تھی بہت

اکسا رہا ہے ترک تعلق پہ دل مجھے

جتنا بھی جلدی ہو سکے اے دوست مل مجھے

گلے سے لگ زباں کو چھو کوئی خواہش بھی پوری کر

دلاسوں سے کہاں غم کی فضا تبدیل ہوتی ہے

اپنی تصویر چوم لی اس نے

پھول پر پھول کھل گیا جیسے

Recitation

بولیے