Zafar Sahbai's Photo'

ظفر صہبائی

1946 | بھوپال, ہندوستان

جو پڑھا ہے اسے جینا ہی نہیں ہے ممکن

زندگی کو میں کتابوں سے الگ رکھتا ہوں

جھوٹ بھی سچ کی طرح بولنا آتا ہے اسے

کوئی لکنت بھی کہیں پر نہیں آنے دیتا

دلوں کے بیچ نہ دیوار ہے نہ سرحد ہے

دکھائی دیتے ہیں سب فاصلے نظر کے مجھے

خدائے امن جو کہتا ہے خود کو

زمیں پر خود ہی مقتل لکھ رہا ہے

شکایتوں کی ادا بھی بڑی نرالی ہے

وہ جب بھی ملتا ہے جھک کر سلام کرتا ہے

جب ادھورے چاند کی پرچھائیں پانی پر پڑی

روشنی اک نا مکمل سی کہانی پر پڑی

یہ عمل ریت کو پانی نہیں بننے دیتا

پیاس کو اپنی سرابوں سے الگ رکھتا ہوں