Zafar Sahbai's Photo'

ظفر صہبائی

1946 | بھوپال, ہندوستان

غزل 15

اشعار 7

جو پڑھا ہے اسے جینا ہی نہیں ہے ممکن

زندگی کو میں کتابوں سے الگ رکھتا ہوں

جھوٹ بھی سچ کی طرح بولنا آتا ہے اسے

کوئی لکنت بھی کہیں پر نہیں آنے دیتا

دلوں کے بیچ نہ دیوار ہے نہ سرحد ہے

دکھائی دیتے ہیں سب فاصلے نظر کے مجھے

  • شیئر کیجیے

خدائے امن جو کہتا ہے خود کو

زمیں پر خود ہی مقتل لکھ رہا ہے

شکایتوں کی ادا بھی بڑی نرالی ہے

وہ جب بھی ملتا ہے جھک کر سلام کرتا ہے

کتاب 7

آہ سے واہ تک

 

1986

دشت معانی

 

1987

دشت معانی

 

1985

دھوپ کے پھول

 

1977

خوشبو نظرآئے

 

1996

لفظوں کے پرندے

 

 

نغمۂ شعور

 

1967

 

"بھوپال" کے مزید شعرا

  • اختر سعید خان اختر سعید خان
  • کیف بھوپالی کیف بھوپالی
  • منیر بھوپالی منیر بھوپالی
  • پروین کیف پروین کیف
  • ضیا فاروقی ضیا فاروقی
  • احمد کمال پروازی احمد کمال پروازی
  • بختیار ضیا بختیار ضیا
  • ابو محمد سحر ابو محمد سحر
  • رشمی صبا رشمی صبا
  • انجم بارہ بنکوی انجم بارہ بنکوی