Zaheer Kashmiri's Photo'

ظہیر کاشمیری

1919 - 1994 | لاہور, پاکستان

248
Favorite

باعتبار

عشق جب تک نہ آس پاس رہا

حسن تنہا رہا اداس رہا

سیرت نہ ہو تو عارض و رخسار سب غلط

خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا

تمام عمر تری ہمرہی کا شوق رہا

مگر یہ رنج کہ میں موجۂ صبا نہ ہوا

فرض برسوں کی عبادت کا ادا ہو جیسے

بت کو یوں پوج رہے ہیں کہ خدا ہو جیسے

کتنا دل کش ہے تری یاد کا پالا ہوا اشک

سینۂ خاک پہ مہتاب گرا ہو جیسے

جب خامشی ہی بزم کا دستور ہو گئی

میں آدمی سے نقش بہ دیوار بن گیا

میں نے اس کو اپنا مسیحا مان لیا

سارا زمانہ جس کو قاتل کہتا ہے

آہ یہ مہکی ہوئی شامیں یہ لوگوں کے ہجوم

دل کو کچھ بیتی ہوئی تنہائیاں یاد آ گئیں

عشق اک حکایت ہے سرفروش دنیا کی

ہجر اک مسافت ہے بے نگار صحرا کی

ہمارے عشق سے درد جہاں عبارت ہے

ہمارا عشق ہوس سے بلند و بالا ہے

سونے پڑے ہیں دل کے در و بام اے ظہیرؔ

لاہور جب سے چھوڑ کے جان غزل گیا

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب

ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

بڑھ گئے ہیں اس قدر قلب و نظر کے فاصلے

ساتھ ہو کر ہم سفر سے ہم سفر ملتے نہیں

دل بھی صنم پرست نظر بھی صنم پرست

اس عاشقی میں خانہ ہمہ آفتاب تھا

اس دور عافیت میں یہ کیا ہو گیا ہمیں

پتا سمجھ کے لے اڑی وحشی ہوا ہمیں

انہیں کی حسرت رفتہ کی یادگار ہوں میں

جو لوگ رہ گئے تنہا بھری بہاروں میں

کوئی دستک کوئی آہٹ نہ شناسا آواز

خاک اڑتی ہے در دل پہ بیاباں کی طرح

تنہائیوں میں آتی رہی جب بھی اس کی یاد

سایہ سا اک قریب مرے ڈولتا رہا

بڑے دلکش ہیں دنیا کے خم و پیچ

نظر میں زلف سی لہرا رہی ہے

مجھ سے بچھڑ کر پہروں رویا کرتا تھا

وہ جو میرے حال پہ ہنستا رہتا ہے

ہم خود ہی بے لباس رہے اس خیال سے

وحشت بڑھی تو سوئے گریباں بھی آئے گی

ہمارے پاس کوئی گردش دوراں نہیں آتی

ہم اپنی عمر فانی ساغر و مینا میں رکھتے ہیں

تو مری ذات مری روح مرا حسن کلام

دیکھ اب تو نہ بدل گردش دوراں کی طرح

ہجر کے دور میں ہر دور کو شامل کر لیں

اس میں شامل یہی اک عمر گریزاں کیوں ہے

وہ بزم سے نکال کے کہتے ہیں اے ظہیرؔ

جاؤ مگر قریب رگ جاں رہا کرو

کل کائنات فکر سے آزاد ہو گئی

انساں مثال دست تہ سنگ رہ گیا

ہم نے اپنے عشق کی خاطر زنجیریں بھی دیکھیں ہیں

ہم نے ان کے حسن کی خاطر رقص بھی زیر دار کیا

ہوتی نہ ہم کو سایۂ دیوار کی تلاش

لیکن محیط زیست بہت تنگ رہ گیا

برق زمانہ دور تھی لیکن مشعل خانہ دور نہ تھی

ہم تو ظہیرؔ اپنے ہی گھر کی آگ میں جل کر خاک ہوئے

اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے

جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا