noImage

زین العابدین خاں عارف

1817 | دلی, ہندوستان

اہم کلاسیکی شاعر، غالب کی بیوی کے بھانجے، جنہیں غالب نے اپنے سات بچوں کے بے وقت مرجانے کے بعد بیٹا بنا لیا تھا۔ غالب عارف کی شاعری کے مداحوں میں بھی شامل تھے

اہم کلاسیکی شاعر، غالب کی بیوی کے بھانجے، جنہیں غالب نے اپنے سات بچوں کے بے وقت مرجانے کے بعد بیٹا بنا لیا تھا۔ غالب عارف کی شاعری کے مداحوں میں بھی شامل تھے

76
Favorite

باعتبار

آپ کو خون کے آنسو ہی رلانا ہوگا

حال دل کہنے کو ہم اپنا اگر بیٹھ گئے

تم اپنی زلف سے پوچھو مری پریشانی

کہ حال اس کو ہے معلوم ہو بہو میرا

کر دیا تیروں سے چھلنی مجھے سارا لیکن

خون ہونے کے لیے اس نے جگر چھوڑ دیا

تیرے کہنے سے میں اب لاؤں کہاں سے ناصح

صبر جب اس دل مضطر کو خدا نے نہ دیا

کھویا غم رفاقت دیکھو کمال اپنا

بہکا دیا ہے سب کو دکھلا کے حال اپنا

نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتا

مجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا

گلشن خلد میں ہر چند کہ دل بہلایا

کوچۂ یار مگر دل سے بھلایا نہ گیا

لائے جب گھر سے تو بے ہوش پڑا تھا عارفؔ

ہو گیا آن کے ہشیار ترے کوچے میں

وہ پردہ نشینی کی رعایت ہے تمہاری

ہم بات بھی خلوت سے نکلنے نہیں دیتے

سونپ کر خانۂ دل غم کو کدھر جاتے ہو

پھر نہ پاؤ گے اگر اس نے یہ گھر چھوڑ دیا

فرقت میں کار وصل لیا واہ واہ سے

ہر آہ دل کے ساتھ اک ارماں نکل گیا

تمہاری رہ کا رہا ہم کو ہر طرف دھوکا

چلے جدھر کو سو بے اختیار ہو کے چلے

دم کا آنا تو بڑی بات ہے لب پر عارفؔ

ضعف نے حرف شکایت کبھی آنے نہ دیا

ہوں تشنہ کام دشت شہادت زبس کہ میں

گرتا ہوں آب خنجر و شمشیر دیکھ کر

پانی نکل کے دشت میں جاری ہے جا بجا

یارب گیا ہے کون یہ سر پر اڑا کے خاک

بیچ میں ہے میرے اس کے تو ہی اے آہ حزیں

صلح کیونکر ہووے جب تک درمیاں کوئی نہ ہو