noImage

زین العابدین خاں عارف

1817 | دلی, ہندوستان

اہم کلاسیکی شاعر، غالب کی بیوی کے بھانجے، جنہیں غالب نے اپنے سات بچوں کے بے وقت مرجانے کے بعد بیٹا بنا لیا تھا۔ غالب عارف کی شاعری کے مداحوں میں بھی شامل تھے

اہم کلاسیکی شاعر، غالب کی بیوی کے بھانجے، جنہیں غالب نے اپنے سات بچوں کے بے وقت مرجانے کے بعد بیٹا بنا لیا تھا۔ غالب عارف کی شاعری کے مداحوں میں بھی شامل تھے

آپ کو خون کے آنسو ہی رلانا ہوگا

حال دل کہنے کو ہم اپنا اگر بیٹھ گئے

تم اپنی زلف سے پوچھو مری پریشانی

کہ حال اس کو ہے معلوم ہو بہو میرا

کر دیا تیروں سے چھلنی مجھے سارا لیکن

خون ہونے کے لیے اس نے جگر چھوڑ دیا

تیرے کہنے سے میں اب لاؤں کہاں سے ناصح

صبر جب اس دل مضطر کو خدا نے نہ دیا

کھویا غم رفاقت دیکھو کمال اپنا

بہکا دیا ہے سب کو دکھلا کے حال اپنا

وہ پردہ نشینی کی رعایت ہے تمہاری

ہم بات بھی خلوت سے نکلنے نہیں دیتے

گلشن خلد میں ہر چند کہ دل بہلایا

کوچۂ یار مگر دل سے بھلایا نہ گیا

لائے جب گھر سے تو بے ہوش پڑا تھا عارفؔ

ہو گیا آن کے ہشیار ترے کوچے میں

تمہاری رہ کا رہا ہم کو ہر طرف دھوکا

چلے جدھر کو سو بے اختیار ہو کے چلے

دم کا آنا تو بڑی بات ہے لب پر عارفؔ

ضعف نے حرف شکایت کبھی آنے نہ دیا

سونپ کر خانۂ دل غم کو کدھر جاتے ہو

پھر نہ پاؤ گے اگر اس نے یہ گھر چھوڑ دیا

فرقت میں کار وصل لیا واہ واہ سے

ہر آہ دل کے ساتھ اک ارماں نکل گیا

نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتا

مجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا

بیچ میں ہے میرے اس کے تو ہی اے آہ حزیں

صلح کیونکر ہووے جب تک درمیاں کوئی نہ ہو

ہوں تشنہ کام دشت شہادت زبس کہ میں

گرتا ہوں آب خنجر و شمشیر دیکھ کر

پانی نکل کے دشت میں جاری ہے جا بجا

یارب گیا ہے کون یہ سر پر اڑا کے خاک