noImage

زین العابدین خاں عارف

1817 | دلی, ہندوستان

اہم کلاسیکی شاعر، غالب کی بیوی کے بھانجے، جنہیں غالب نے اپنے سات بچوں کے بے وقت مرجانے کے بعد بیٹا بنا لیا تھا۔ غالب عارف کی شاعری کے مداحوں میں بھی شامل تھے

اہم کلاسیکی شاعر، غالب کی بیوی کے بھانجے، جنہیں غالب نے اپنے سات بچوں کے بے وقت مرجانے کے بعد بیٹا بنا لیا تھا۔ غالب عارف کی شاعری کے مداحوں میں بھی شامل تھے

128
Favorite

باعتبار

آپ کو خون کے آنسو ہی رلانا ہوگا

حال دل کہنے کو ہم اپنا اگر بیٹھ گئے

تم اپنی زلف سے پوچھو مری پریشانی

کہ حال اس کو ہے معلوم ہو بہو میرا

کر دیا تیروں سے چھلنی مجھے سارا لیکن

خون ہونے کے لیے اس نے جگر چھوڑ دیا

تیرے کہنے سے میں اب لاؤں کہاں سے ناصح

صبر جب اس دل مضطر کو خدا نے نہ دیا

نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتا

مجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا

گلشن خلد میں ہر چند کہ دل بہلایا

کوچۂ یار مگر دل سے بھلایا نہ گیا

کھویا غم رفاقت دیکھو کمال اپنا

بہکا دیا ہے سب کو دکھلا کے حال اپنا

فرقت میں کار وصل لیا واہ واہ سے

ہر آہ دل کے ساتھ اک ارماں نکل گیا

وہ پردہ نشینی کی رعایت ہے تمہاری

ہم بات بھی خلوت سے نکلنے نہیں دیتے

ہوں تشنہ کام دشت شہادت زبس کہ میں

گرتا ہوں آب خنجر و شمشیر دیکھ کر

تمہاری رہ کا رہا ہم کو ہر طرف دھوکا

چلے جدھر کو سو بے اختیار ہو کے چلے

دم کا آنا تو بڑی بات ہے لب پر عارفؔ

ضعف نے حرف شکایت کبھی آنے نہ دیا

لائے جب گھر سے تو بے ہوش پڑا تھا عارفؔ

ہو گیا آن کے ہشیار ترے کوچے میں

سونپ کر خانۂ دل غم کو کدھر جاتے ہو

پھر نہ پاؤ گے اگر اس نے یہ گھر چھوڑ دیا

بیچ میں ہے میرے اس کے تو ہی اے آہ حزیں

صلح کیونکر ہووے جب تک درمیاں کوئی نہ ہو

پانی نکل کے دشت میں جاری ہے جا بجا

یارب گیا ہے کون یہ سر پر اڑا کے خاک