Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Zia-ul-Haq Qasmi's Photo'

ضیاء الحق قاسمی

پاکستان

ضیاء الحق قاسمی کے اشعار

106
Favorite

باعتبار

مجھے اپنی بیوی پہ فخر ہے مجھے اپنے سالے پہ ناز ہے

نہیں دوش دونوں کا اس میں کچھ مجھے ڈانٹتا کوئی اور ہے

وہ بھری بزم میں کہتی ہے مجھے انکل جی

ڈپلومیسی ہے یہ کیسی مری ہمسائی کی

میں جسے ہیر سمجھتا تھا وہ رانجھا نکلا

بات نیت کی نہیں بات ہے بینائی کی

تم نے تو کہا تھا کہ چلو ڈوب مریں ہم

اب ساحل دریا پہ کھڑے کرتے ہو ٹا ٹا

کبھی لکھنے لکھانے کی تو نوبت ہی نہیں آتی

میں ناڑا ڈال لیتا ہوں ضرورت جب بھی پڑتی ہے

کہتے ہیں کہ لیلیٰ کا تعلق تھا عرب سے

یہ رنگ تو افریقہ و مکران میں دیکھا

باپ کی تنبیہ پر بیٹا بڑے غصے میں تھا

اس نے ڈائل فون سے پھر نو سو گیارہ کر دیا

اک بڑے اخبار نے چھاپی خبر یہ اس طرح

ایک قومی رہنما کا پیر بھاری ہو گیا

کالا نہ سہی لال سہی تل تو بنا ہے

اچھا ہوا مچھر نے ترے گال پہ کاٹا

مہمان نوازی تو بہت ہوتی ہے لیکن

سگریٹ کی جو حاجت ہو تو گیراج میں جائیں

مرے رعب میں تو وہ آ گیا مرے سامنے تو وہ جھک گیا

مجھے لات کھا کے ہوئی خبر مجھے پیٹتا کوئی اور ہے

ڈاکٹر سے میں علاج دل کرانے جب گیا

مشورہ اس نے دیا تو شعر کہنا چھوڑ دے

خوش ہوتے ہیں ہم لوگ اگر کوئی حسینہ

اس عمر ہم پر کوئی تہمت ہی لگائے

نکالیں ٹانگ سے اور جوڑ دی ہیں دل کے پہلو میں

لگا ہے خوب کیا کم خواب میں یہ ٹانگ کا پیوند

آ کے ٹک جانا یہاں مشکل نہیں بالکل نہیں

کار بنگلہ اور بیوی بھی یہاں قسطوں میں ہیں

میرے تایا سے وہ ہیں عمر میں دس سال بڑی

گھر کے ہر فرد پہ دہشت ہے مری تائی کی

اپنے ہم سایوں کے کتے بھونکتے ہیں رات میں

اپنے گھر میں بھونک لیتے ہیں سبھی مل جل کے ہم

ان کو لیلیٰ کی صدارت کی جدائی کا ہے غم

گھر سے باہر کیسے نکلیں وہ ابھی عدت میں ہیں

جو بھی دسترخوان پر تھا کھا کے فارغ ہم ہوئے

پھر ہمیں دیوان اس کا صبح تک سننا پڑا

جانے کا نام ہی نہیں لیتا وہ نیک بخت

''مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے''

ہے عجب نظام زکوٰۃ کا مرے ملک میں مرے دیس میں

اسے کاٹتا کوئی اور ہے اسے بانٹتا کوئی اور ہے

ایک گاہک کو ضرورت ٹائیلٹ پیپر کی تھی

میں نے اس کو دے دیا ہے اس کے بدلے ریگ مال

مال و دولت اب بھی مل سکتے ہیں ہم سب کو مگر

لاٹری نکلے ہماری یا کسی پر سو کریں

میرے رہنے کا ٹھکانہ بھی نہیں کوئی یہاں

مہرباں سی ایک مجھ کو بے بی سیٹر چاہئے

سر بزم مجھ کو اٹھا دیا مجھے مار مار لٹا دیا

مجھے مارتا کوئی اور ہے ولے ہانپتا کوئی اور ہے

Recitation

بولیے