کلدیپ کمار کے اشعار
درخت کرتے نہیں اس لئے امید وفا
وہ جانتے ہیں پرندوں کے پر نکلتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
موسم یاد یوں عجلت میں نہ وارے جائیں
ہم وہ لمحے ہیں جو فرصت سے گزارے جائیں
-
موضوع : یاد
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں ہار جاتا ہوں ان دو اداس آنکھوں سے
مجھے سفر کا ارادہ بدلنا پڑتا ہے
تمہارا کیا گیا گر تھوڑا سا قرار گیا
یہ دکھ تو میرا ہے اے دل مرا تو یار گیا
میں اس کے عشق نہیں حوصلہ کا قائل ہوں
سیاہ شب تھا میں پھر بھی مجھے گزار گیا
تمام نیکیاں مل کر مجھے بچا نہ سکیں
بس اک گناہ اکیلا ہی مجھ کو مار گیا
-
موضوع : گناہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہمیں بجھاتے ہیں لو پہلے سب چراغوں کی
پھر ان چراغوں کے حصے کا جلنا پڑتا ہے