Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کلدیپ کمار کے اشعار

درخت کرتے نہیں اس لئے امید وفا

وہ جانتے ہیں پرندوں کے پر نکلتے ہیں

موسم یاد یوں عجلت میں نہ وارے جائیں

ہم وہ لمحے ہیں جو فرصت سے گزارے جائیں

میں ہار جاتا ہوں ان دو اداس آنکھوں سے

مجھے سفر کا ارادہ بدلنا پڑتا ہے

تمہارا کیا گیا گر تھوڑا سا قرار گیا

یہ دکھ تو میرا ہے اے دل مرا تو یار گیا

میں اس کے عشق نہیں حوصلہ کا قائل ہوں

سیاہ شب تھا میں پھر بھی مجھے گزار گیا

تمام نیکیاں مل کر مجھے بچا نہ سکیں

بس اک گناہ اکیلا ہی مجھ کو مار گیا

ہمیں بجھاتے ہیں لو پہلے سب چراغوں کی

پھر ان چراغوں کے حصے کا جلنا پڑتا ہے

Recitation

بولیے