aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "'तस्लीम'"
منشی امیر اللہ تسلیم
1819 - 1911
شاعر
تسلیم فاضلی
1947 - 1982
مریم تسلیم کیانی
مصنف
منشی انوار حسین تسلیم
born.1815
تسلیم نیازی
born.1966
تسلیم الہی زلفی
born.1947
سید تسلیم حیدر قمر
تسلیم غوری بدایونی
تسلیم لکھنوی
تسلیم احمد تصور
تسلیم احمد عارفی
born.1998
شاہ غلام جیلانی تسلیم
کشن چند ماتھر تسلیم دہلوی
تسلیم زہرا
مدیر
تسلیم احمد امروہوی
ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہےعمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہی
دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہمسر تسلیم خم نہیں کرتے
تسلیم کر لیا ہے جو خود کو چراغ حقدنیا قدم قدم پہ صبائی ہے روئیے
غالب کی عظمت کا اعتراف کس نے نہیں کیا ۔ نہ صرف ہندوستانی ادبیات بلکہ عالمی ادب میں غالب کی عظمت اور اس کے شعری مرتبے کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ غالب کے ہم عصر اور ان کے بعد کے شاعروں نے بھی ان کو ان کی استادی کا خراج پیش کیا ہے ۔ ایسے بہت سے شعر ہیں جن میں غالب کے فنی و تخلیقی کمال کے تذکرے ملتے ہیں ۔ ہم ایک چھوٹا سا انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔
آگہی کلاسیکی شاعری میں کم کم استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آگہی سے وابستہ تصورات جدید دورکے پیدا کردہ ہیں ۔ جدید شاعری نے انسان اوراس کے باطن ، سماج اورکی مختلف شکلوں کے بارے میں جوایک داخلی اورتخلیقی فکرکو راہ دی ہے اس سے ایک نیا منظرنامہ سامنے آیا ہے ۔ انہیں بنیادوں پرجدید شعریات کا اپنا ایک انفراد بھی قائم ہوتا ہے ۔ آگہی کا رشتہ ایک سطح پر تصوف میں حاصل ہونے والی بے خودی سے بھی ملتا ہے ۔ اس انتخاب میں آگہی کے اس سفر کی چند منزلوں کے نشان ہیں ۔
तस्लीमتَسْلِیم
سلام کرنا ،سلام کہنا
तस्लीम करनाتَسْلِیم کَرنا
ماننا، قبول کرنا، منظور کرنا
तस्लीम होनाتَسْلِیم ہونا
خدا کی مرضی پر جھک جانا، راضی برضا ہونا
तस्लीम-ए-'इश्क़تَسْلِیْمِ عِشْق
accepting of love
کلیات امیراللہ تسلیم
کلیات
انتخاب غزلیات امیراللہ تسلیم
انتخاب
نظم دل افروز
دیوان
تاریخ بدیع
مثنوی
زینت الخیل
دیوان امیر اللہ تسلیم
بہارستان اشعار
مجموعہ
ڈاکٹر فومانچو کا سایہ
افسانہ
ویریندر پرشاد سکسینہ : حیات و ادبی خدمات
سوانح حیات
لہو شعر
زمزمہ عشاق
تصوف
ڈالفن
الفراد البہیہ فی التمیز بین السنیتہ و الشیعہ
رفتہ رفتہ وہ مری ہستی کا ساماں ہو گئےپہلے جاں پھر جان جاں پھر جان جاناں ہو گئے
تسلیم کو حسین سے پہلے جھکے حسنخوش ہو کے مسکرانے لگے سرور زمن
مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاباے شوق! ہاں اجازت تسلیم ہوش ہے
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگیہے کبھی جاں اور کبھی تسليم جاں ہے زندگی
خدا کرے کہ محبت میں یہ مقام آئےکسی کا نام لوں لب پہ تمہارا نام آئے
غالب: مگر آپ کو قافیہ اور ردیف ترک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ رقیق احمد خوگر: اس کی وجہ مغربی شعرا کا تتبع نہیں بلکہ ہماری طبیعت کا فطری میلان ہے، جو زندگی کے دوسرے شعبو ں کی طرح شعر و ادب میں بھی آزادی کا جویا ہے۔ اس...
مجھے ہے وہ لیڈر تسلیمجو دے یکجہتی کی تعلیم
سخت مشکل ہے شیوۂ تسلیمہم بھی آخر کو جی چرانے لگے
خم ہے سر تسلیم مرا آپ کے آگےپیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books