aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",EYj"
محمود ایاز
1929 - 1997
شاعر
شیخ ایاز
1923 - 1997
مصنف
ابن مفتی
غالب ایاز
born.1981
اوج لکھنوی
1853 - 1917
روبینہ ایاز
ایاز رسول نازکی
born.1951
ایاز جھانسوی
ایاز محمود ایاز
born.1984
مرزا علی اکبر اوج
born.2002
خلش کلکتوی
1918 - 1994
ایاز احمد ایاز
محمود الظفر
1903 - 1956
اوج یعقوبی
راج بہادر سکسینہ اوجؔ
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پرکیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔمت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
کر رہا تھا غم جہاں کا حسابآج تم یاد بے حساب آئے
کہ عمر بھر کے ساتھ کووہ بد تر از ہوس کہے
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیابات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
کلاسیکی شاعری میں قاتل محبوب ہے ۔ اسی لئے محبوب کی بھوؤں کو تلوار اور پلکوں کو نیزہ سے تشبیہ عام ہے ۔ وہ اپنے انہیں اوزاروں ، جلوؤں اور اداؤں سے اپنے عاشقوں کا قتل کرتا ہے ۔ جدید شاعری میں قاتل عشق کے دائرے سے باہر نکل آیا ہے اور وہ اپنی تمام تر سماجی صورتوں کے ساتھ شاعری میں برتا گیا ہے ۔ معیاری شعروں کا ہمارا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا۔
آج
aye aye
ہَمیشَہ
अयो اَیو
ایسا، مانند
आया آیا
بتاؤ تو، آخر
پرتگالی
आया آیہ
انّا، خادمہ، کھلانی
آجکل کے ڈرامے
محمد کاظم
ڈرامہ
اردو میڈیا کل، آج، کل
سید فاضل حسین پرویز
صحافت
عربی ادب قبل از اسلام
خورشید رضوی
تاریخ
نیل کنٹھ اور نیم کے پتے
مجموعہ
آج کی سائنس
اظہار اثر
سائنس
آج کا اردو ادب
ابواللیث صدیقی
تنقید
اوج عرش
سعادت حسن منٹو
محمد حمید شاہد
افسانہ تنقید
آج بازار میں پابہ جولاں چلو
عزیز حامد مدنی
آج کا پاکستان
احمد سعید ملیح آبادی
انٹرویو
شمارہ نمبر۔077
اجمل کمال
آج، کراچی
گابریئل گارسیا مارکیز : شمارہ نمبر-007
میر تقی میر اور آج کا ذوق شعری
محب عارفی
تقابلی مطالعہ
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
اخلاق حسین دہلوی
تاریخ اسلام
محبوب الزمن تذکرۂ شعرائے دکن
مولوی ابو تراب
تذکرہ
میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوںاگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیاجانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہوکہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تکبات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی
تجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو از راہ لحاظحال دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے
اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کیجی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیاوہ تری یاد تھی اب یاد آیا
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گیجب ارض خدا کے کعبے سے
عالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books