aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",aSTd"
اسعد بدایونی
1958 - 2003
شاعر
اسد بھوپالی
1920 - 1990
اسد علی خان قلق
1820 - 1879
سبحان اسد
born.1982
اسد محمد خاں
born.1932
مصنف
اعجاز اسد
born.1986
اسد اعوان
born.1972
اسد رضوی
born.1956
اسد رضا سحر
بابر علی اسد
born.1980
اسد ملتانی
1902 - 1959
اسد جعفری
born.1935
اسد رضا
born.1952
استاد عظمت حسین خاں
1911 - 1975
فیضان اسعد
غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاجشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
نخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ تو
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔکہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔگر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کمچاہنے کے لیے ایک چہرا بہت
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
یہاں وہ غزلیں دی جا رہی ہیں جسمیں جسے اکثر ریڈیو پر سنا جاتا تھا
مرزا غالب نے کئی نسلوں کو متسصر کیا ہے - شاعر انکے مضامین، اسلوب اور زبان سے کافی کچھ سیکھا - یہی وجہ ہے کہ شاعروں نے انکی زمینوں پر غزلیں کہی اور انھیں خراج پیش کیا - ہم یہاں چند غالب کی ہم زمین غزلیں شایع کر رہے ہیں - پڑھیں اور لطف لیں -
उस्ता اُسْتا
نائی ، حجام
इस्ता اِسْتا
فارسی
प्रशंसा, तारीफ़ ।।
आस्ते آسْتے
آہستہ (رک) كا تلفظ (اكثر تكرار كے ساتھ مستعمل)
असद اَسَد
عربی
شیر
اے میسج فروم دی ایسٹ
شاعری
موسیقی حضرت امیر خسرو
استاد چاند خان
موسیقی
طوفان سے ساحل تک
محمد اسد
بیاض نوحہ جات
میر اسد علی خان
مرثیہ
بہترین اردو لطیفے
لطیفے
استاد شاعری
منشی محمد اسمٰعیل راز
علم عروض / عروض
کھڑکی بھر آسمان
برج خموشاں
افسانہ
غصے کی نئی فصل
نربدا اور دوسری کہانیاں
جو کہانیاں لکھیں
ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی
تیسرے پہر کی کہانیاں
محمد اسد بندۂ صحرائی
خود نوشت
صحیفۂ چین
سید اسد علی انوری
عالمی تاریخ
وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔجو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا
سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیںعجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں
کا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہ
ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کابس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔمیری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمتہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔسنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعشدشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
خرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کر
میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندرآدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر
ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا
نے اسدؔ جفا سائل نے ستم جنوں مائلتجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت آزما پایا
دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہادیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں
اتنا تو بتا جاؤ خفا ہونے سے پہلےوہ کیا کریں جو تم سے خفا ہو نہیں سکتے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books