aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",iSya"
بسمل سعیدی
1901 - 1976
شاعر
عائشہ ایوب
born.1983
اسریٰ رضوی
born.1993
اسنی بدر
born.1971
احیاء بھوجپوری
born.1977
صائمہ اسما
اسماء ہادیہ
born.1992
آشا پربھات
born.1958
عائشہ مسرور
born.1949
مصنف
ارون کمار آریہ
اسما ریاض اسما
گوہر عزیز
born.1963
اوشا بھدوریہ
born.1954
اسما محمد شاہد خان
born.2004
اوشا شفق
خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیںوہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیابات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوںاگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیںاور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
پاکستان کے معروف ترین اور محترم جدید شاعروں میں سے ایک، اپنے نوکلاسیکی آہنگ کے لیے معروف
آسرا شاعری
सिया سِیا
stitched
आया آیہ
انّا، خادمہ، کھلانی
ऐसा اَیسا
(کسی چیز کی) مثل یا مانند، سا
سنسکرت
उसना اُسْنا
آسایا ہوا ، آبلا ہوا ، جوش دیا ہوا .
تصوف کی حقیقت اور اس کا فلسفہ تاریخ
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
تصوف
ڈارون اور اس کا نظریہ ارتقاء
افتخار عالم خان
تحقیق
آگرہ، اکبر اور اس کا دربار
سید محمد لطیف
تاریخ
قطب مشتری اور اس کا تنقیدی جائزہ
وہاب اشرفی
مثنوی
اسمائے امراض
حکیم محمد کبیرالدین
طب
ام المومنین حضرت عائشہ
مائل خیرآبادی
سوانح حیات
ملتانی زبان اور اس کا اردو سے تعلق
مہر عبدالحق
زبان
ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اوراس کا نظام
ڈاکٹر زاہد علی
واقعہ کربلا اور اس کا پس منظر
عتیق الرحمن
اخلاقیات اجتماعیہ اور اس کا فلسفہ
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
Jan 1993اسلامیات
محبت ایسا دریا ہے
امجد اسلام امجد
نظم
وسط ایشیا کے مغل حکمران
محمد اقبال چغتائی
بیماری اور اس کا روحانی علاج
میر ولی الدین
دین الہی اور اس کا پس منظر
مہر محمد خاں شہاب مالیر کوٹلوی
ہندوستانی تاریخ
قرآن اور علم جدید
محمد رفیع الدین
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیاجانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہوجہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا
تم ہو پہلو میں پر قرار نہیںیعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو
ہاں ہاں تری صورت حسیں لیکن تو ایسا بھی نہیںاک شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا ترا
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیاوہ تری یاد تھی اب یاد آیا
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
تمام رشتوں کو میں گھر پہ چھوڑ آیا تھاپھر اس کے بعد مجھے کوئی اجنبی نہ ملا
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہےکس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کوکیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر درہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر
بس مجھے یوں ہی اک خیال آیاسوچتی ہو تو سوچتی ہو کیا
ایک لمحے میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفرزندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیںراہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books