aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aamaas"
محسن نقوی
1947 - 1996
شاعر
عباس تابش
born.1961
عمار اقبال
born.1986
شاہین عباس
born.1965
فرحت عباس شاہ
born.1964
امام بخش ناسخ
1772 - 1838
عباس قمر
born.1994
امیر امام
born.1984
اختر الایمان
1915 - 1996
جرأت قلندر بخش
1749 - 1810
حسن عباس رضا
born.1951
ارسلان عباس
born.1996
غلام عباس
1909 - 1982
مصنف
مظہر امام
1928 - 2012
شوکت تھانوی
1904 - 1963
دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجودنہیں منظور مغز سر کا آماس
دل پہ چھایا رہا امس کی طرحایک لمحہ تھا سو برس کی طرح
میرے اندر ہے امس اس درجہمجھ میں بارش سی ہوا چاہتی ہے
تیرے بدن کے تاب سے ہے درمیاں امسلیکن تجھے جدا کروں ایسی امس نہیں
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
مرثیہ عربی لفظ "رثا " سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے مرنے والوں پر ماتم کرنا اور ان کی فضیلت بیان کرنا۔ اردو میں، یہ صنف زیادہ تر امام حسین علیہ السلام کی تعریف اور کربلا کے سانحے کے بیان کے لیے مخصوص ہے۔
مرزا غالب نے کئی نسلوں کو متسصر کیا ہے - شاعر انکے مضامین، اسلوب اور زبان سے کافی کچھ سیکھا - یہی وجہ ہے کہ شاعروں نے انکی زمینوں پر غزلیں کہی اور انھیں خراج پیش کیا - ہم یہاں چند غالب کی ہم زمین غزلیں شایع کر رہے ہیں - پڑھیں اور لطف لیں -
आबादآباد
فارسی
بسا ہوا مکان یا جگہ، ویران کی ضد
आग़ाज़آغاز
ابتدا، شروع، شروعات
उमसاُمَس
سنسکرت
گھٹی ہوئی گھجی گر می جو برسات میں ہوا بند ہو جانے سے ہوتی ہے، حبس، گھمس
उम्मसاُمَّس
باغ وبہار
میر امن
داستان
اردو ناول کی تاریخ اور تنقید
علی عباس حسینی
ناول تنقید
کلیات غلام عباس
افسانہ
باغ و بہار
مارکسزم ایک مطالعہ
ظفر امام
تنقید
تہافۃ الفلاسفہ
امام محمد غزالی
فلسفہ
اقبال کا تصور خودی
غلام عمر خاں
جدیداردو نظم نظریہ و عمل
عقیل احمد صدیقی
تحقیق
اداس نسلیں
عبداللہ حسین
تاریخی
مفاتیح الغیب
امام جعفر صادق
ایک لڑکی اور دوسری کہانیاں
خواجہ احمد عباس
عشق آباد
کلیات
اردو زبان اور ابلاغ عامہ
مشاورتی کمیٹی
زبان
میر امن دہلوی حیات و تالیفات
نفیس جہاں بیگم
سوانح حیات
قصہ چار درویش
ناول
دیار شوق میں کوسوں کہیں ہوا بھی نہیںامس ہے ایسا کہ پتہ کوئی ہلا بھی نہیں
یہ آج فضا میں جو گھٹن ہے جو امس ہےکہتے ہیں یہ طوفاں کے لیے حسن طلب ہے
امیدوں کی اپنی گھٹن تھیعمر گزاری ہم نے امس میں
ہوا نرم چلنے کو بیتاب ہےامس ختم ہونے کا امکان رکھ
امکان کی حدوں سے نکل کر بھی دیکھ لومیں کر رہا ہوں اپنی فضا کے امس سے جنگ
یہ لباس ہجر اتار کر تو لباس وصل پہن کبھینہ خسوف ہو نہ اماس ہو وہ وصال ماہ تمام کر
گرد اڑے یا کوئی آندھی ہی چلےیہ امس تو کسی عنوان ٹلے
پچھلے برس یاد ہےکتنی امس تھی
رات امس میں تر ہوئے لیکن کھلے نہ بابالگنیوں پر نین کی دن بھر سوکھے خواب
پانیوں کی ہولناک بو میںکیچ کی امس میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books