aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aastaanaa"
ڈاکٹر انجنا سنگھ سینگر
born.1974
شاعر
ارچنا جوہری
born.1958
انجنا سندھیر
born.1960
نور شمع نور
مصنف
زیب بریلوی
زبیر ارتضٰی
بزم آستانہ شہ میریہ، کڑیہ
ناشر
آستانہ بک ڈپو، دہلی
جگجیون لال آستھانہ سحر
شعبۂ نشرواشاعت آستانۂ عالیہ حضرت بابا فریدی، رجب پور
آستانۂ عالیہ اشرفیہ سركار كلاں كچهوچهہ شریف، فیض آباد
آستانہ عالیہ وارثیہ، راولپنڈی
آستانہ قدیری، ہلکٹہ شریفواڑی جنکشن، گلبرگہ شریف ، کرناٹکا
خادم آستانۂ محبوب سبحانی
آستانۂ حیدری نقشبندی، کراچی
کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوںآستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا
فرازؔ در خور سجدہ ہر آستانہ نہیںہم اپنے دل کے حوالے سے در کو دیکھتے ہیں
زینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاکبام بلند یار کا ہے آستانہ کیا
غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانیشاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ
میں اپنی خاک میں رکھتا ہوں جس کو صدیوں سےیہ روشنی بھی کبھی میرا آستانہ تھا
شاعری میں اظہار اپنی بیشتر صورتوں میں عشق کا اظہار ہے ۔ اظہار اور اس کے متعلقات کو موضوع بنانے والی شاعری اس لئے زیادہ دلچسپ ہے کہ وہ اظہار سے پہلے کی کشمکش کو موضوع بناتی ہے ۔ یہ کشمکش کبھی اظہار میں تبدیل ہو جاتی ہے اور کبھی اور زیادہ گہری ہو کر عاشق کیلئے ایک نیا روگ بن جاتی ہے ۔ ان لمحوں کو ہم سب نے جیا ہے اس لئے یہ شاعری بھی ہم سب کی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب حاضر ہے ۔
आस्ताना آسْتانَہ
چوکھٹ، دیوڑھی، دروازہ، دہلیز
فارسی
बटाना بَٹانا
بان٘ٹ لینا، کچھ حصہ چھوڑ کر کچھ حصہ لے لینا
ہندی
बताना بَتانا
کہنا ، بیان کرنا.
سنسکرت, ہندی
अफ़साना اَفسانا
داستان، کہانی، قصہ، جھوٹی بات، سرگذست، حال، ردئداد، طویل بات، ذکر، مزکور، چرچا
آستانہ کی حور
صادق حسین سردھنوی
تاریخی
شمارہ نمبر۔000
محمد مستحسن فاروقی
Apr 1957آستانہ، دہلی
شمارہ نمبر-000
آستانہ، دہلی
May 1955آستانہ، دہلی
شمارہ نمبر-008
حاجی سید الطاف علی
Aug 1886آستانہ حکمت
شمارہ نمبر-004
Apr 1886آستانہ حکمت
001
Jan 1885آستانہ حکمت
شمارہ نمبر- 000
بیگم ریحانہ فاروقی
Dec 1981آستانہ، دہلی
اپریل
جولائی
اگست
سید زاہد رضوی
جون
004
Apr 2012آستانہ، دہلی
فہرست کتابخانہ آستانہ قدس رضوی
اشاریہ
کیسی مسجد کہاں کا بت خانہہر جگہ اس کا آستانہ ہے
چھوڑ دوں کیوں کر در پیر مغاںکوئی ایسا آستانا اور ہے
یہ حسن و عشق کی تفریق اک بہانہ ہےکہیں نظر کو کہیں دل کو آزمانا ہے
دل کار گاہ فکر و اسدؔ بے نوائے دلیاں سنگ آستانۂ بیدلؔ ہے آئنہ
بہت بچ کے نکلے مگر کیا خبر تھیادھر بھی ترا آستانہ پڑے گا
تمہارا آستانہ چھوڑ کر آخر کہاں جاؤںدیا ہے درد دل تم نے وہ دل سے کم نہیں ہوتا
سر نیاز کو تیرا ہی آستانہ ہواشراب خانہ ہوا یا قمار خانہ ہوا
کیا درباں نے سنگ آستانہدر دولت سرا ہے اور میں ہوں
میں اس دیار میں بھیجا گیا ہوں سر دے کرقدم قدم پہ جہاں آستانہ پڑتا ہے
ہم سے کیونکر وہ آستانہ چھٹےمدتوں جس پہ جبہ سائی کی
ہوائے تند نہ چھوڑے مرے غبار کا ساتھیہ گرد راہ کہاں خاک آستانہ ہوا
خدا نما ہے بت سنگ آستانۂ عشقچلوں گا پائے نگہ بن کے سوئے خانۂ عشق
امید خاک رکھی جائے اب اجالوں کیچراغ اوندھے پڑے ہیں بہ آستانۂ شب
میں بھی دیکھوں اب ترا ذوق جنون بندگیلے جبین شوق ان کا آستانہ آ گیا
ترا ناز کبریائی بھی مقام غور میں ہےکہ گھٹا دیا ہے سجدوں نے وقار آستانہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books