aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aruuz"
ارم زہرا
born.1982
شاعر
صباحت عروج
born.1995
عابدہ عروج
نادر عریض
born.1993
عروج زہرا زیدی
عروج زیدی بدایونی
1912 - 1987
عروج اختر زیدی
1942 - 2021
مصنف
عبد الرؤف عروج
born.1936
عروج قادری
مرزا فرحان عارض
born.1985
ارون کمار آریہ
فاروق زمن
born.1969
ایرج مبارک
وجے ارون
ارن کولٹ کر
1932 - 2004
کلام عروض تغزل خیال ذوق جمالبدن کے جام نے الفاظ کی صراحی بھری
شعر میں ہوتی ہے شاعر کو ضرورت اس کیگر عروض اس نے پڑھا وہ ہے سخن ور دانا
سخن وری ہے نظر سے نظر کا ناز و نیازعروض سے نہ زبان و بیاں سے آتی ہے
میں شاعری کے ہوں فن عروض سے واقفزبر ہیں زیر ہیں اعراب ہیں مرے آنسو
عروض و علم کی تعلیم مجھ کو کب رہی حاصلمرا استاد تو بس یہ غم ایام ہے ساقی
علم عروض وہ خاص علم ہے جس سے شعر کا وزن اوراس کا موزوں یا نا موزوں ہونا معلوم کیا جاتا ہے۔ علم |عروض کے تحت اشعار کے مختلف وزن مقرر کئے گئے ہیں جن میں ہر وزن کو بحر کہا جاتا ہے
علمِ عروض
आरज़ू آرْزُو
خواہش، تمنا، ارمان
فارسی
'अरूज़ عَرُوض
اوزانِ شعر کو جانچنے کا علم ، وہ علم جس میں شعر کے اوزان ، بحور ، زحافات کے اصول بیان کیے جاتے ہیں.
عربی
'उरूज عُرُوج
اوپر چڑھنا، بلند ہونا، صعود، (خصوصاً کسی ستارے کا)
अर्ज़ اَرْز
قیمت، قدر و قیمت (انگریزی) ویلیو (عموماً ترکیبات میں مستعمل جیسے: ارزبابی، ارز بازار وغیرہ)
علم عروض اور اردو شاعری
محمد اسلم ضیاء
علم عروض / عروض
آہنگ اور عروض
کمال احمد صدیقی
زبان
آسان عروض
ڈاکٹر اعظم
علم عروض و قافیہ و تاریخ گوئی
سید حسن کاظم عروض
تاریخ گوئی
عروض آہنگ اور بیان
شمس الرحمن فاروقی
اردو علم ہجا و علم عروض جدید
عبد الرحمٰن خان
شہکار عروض و بلاغت
انور مینائی
آئینہ عروض و قافیہ
کنہیا لال ماتھر طالب
عروض
سید کلیم اللہ حسینی
ارمغان عروض
کندن لال کندن
راز عروض
سیماب اکبرآبادی
سراج العروض
اردو کاعروض
جنگ بہادر جلیل
شعور عروض
شعور اعظمی
سخن ہاے عروض
خواجہ فراز بادامی
جو تھے عروض داں وہ روایت میں بند تھےبے بہرہ جو گدھے تھے ترقی پسند تھے
اردو کی شاعری ہے تو ہوگی یہ بات بھیعلم عروض بھی ہے رموز و نکات بھی
لگاتے خوب ہو مصرع مگر علیمؔ سنوعروض جاننا لازم ہے شاعری کے لئے
تیرا پاپاؔ عروض کے بدلےایک دو تین چار کرتا ہے
نہ کچھ علم عروض اس کو نہ ہے اہل زباں ہی وہبنا پھرتا ہے ناحق ہی صداؔ نغمہ سرا دیکھو
عروض آگہی ہے اور میں ہوںبس اک دیوانگی ہے اور میں ہوں
عجیب نشہ ہے صہبائے زندگی میں عروجؔجسے بھی دیکھیں بہکتا دکھائی دیتا ہے
عروجؔ وہ ہی نہیں کہہ سکے جو کہنا تھاسنا تو یہ تھا کہ تم نے کہا بہت کچھ ہے
علم عروض نے تجھے ایسا کیا کہ ابموزوں خیال نثر کے لگتے خفیف ہیں
توفیق شعر مجھ کو عطا بھی ہوئی تو کبجب عارض عروض سے آگے نکل گیا
عروض و معنی و علم بیاں اسلوب سب برسرسخن پنہاں کوئی زور بیاں کے پار بھی تو ہے
حرم و دیر کی راہوں سے شناسا ہیں عروجؔہم نے کافر بہت دیکھے ہیں مسلماں صورت
گزشتگاں کی وہ صحبت کہاں عروجؔ مگرانہیں کے ذکر سے دل شادماں لئے پھرنا
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گیجب ارض خدا کے کعبے سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books