aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "atash"
حیدر علی آتش
1778 - 1847
شاعر
آتش بہاولپوری
1915 - 1993
آکاش عرش
born.2001
آتش اندوری
born.1977
آکاش اتھرو
born.2003
خواجہ ریاض الدین عطش
1925 - 2001
آتش رضا
born.1962
مصنف
امداد آکاش
born.1957
آتش مراد آبادی
آتش رضا سینجپوری
قربان آتش
born.1958
ظہیر آتش
حفیظ آتش
born.1942
نہال آتش
born.1934
العطش پبلی کیشنز، جموں
ناشر
تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہےگل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہوں گے
سینۂ آتش فشاں کی طرح گرمی سے ابلچل مرے دل راستہ خوشیوں کا دیکھ
عطش کی نیند بہت بڑھ گئی ہے آنکھوں میںچلو فرات کی باہوں میں سو کے دیکھتے ہیں
بلا سے کم نہ ہو گریہ سے میرا سوز جگربجھا پر ان کی ذرا آتش عتاب تو دے
اٹھ رہی ہے میری مٹی سے صدائے العطشخالی مشکیزہ لئے اپنا گھٹا خاموش ہے
مرزا غالب کے ہم عصر، انیسویں صدی کی اردو غزل کا روشن ستارہ
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
आतश آتَش
'अतश عَطَش
پیاس، تشنگی
عربی
आतिश آتِش
آگ، شعلہ، سرخ گندھک (قدیم فارسی میں آتیش تھا اور اس سے آتش ہو گیا) (حقیقی اور مجازی معنی میں)
فارسی
आतशी آتَشی
شمیم عطش
عظیم امروہوی
اردو دشمن تحریک کے سو سال
زبان
دریائے عطش
حسن عابدی
شمارہ نمبر-001-002-003-004
راج کمار چندن
Jan, Apr 1986العطش
خواجہ حیدر علی آتش حسینی ہر دو دیوان
دیوان
رقص عطش
حقیر آستانی
نظم
العطش
ضمیر درویش
صدائے العطش
ارمان شیام نگری
انتخاب
آتش چنار
شیخ محمد عبداللہ
خود نوشت
آتش تر
خمار بارہ بنکوی
غزل
آتش پارے اور سیاہ حاشیے
سعادت حسن منٹو
افسانوی ادب
اردو کے کلاسیکی شعرا پر تنقیند مضامین (میرسے آتش تک)
ایم حبیب خاں
مقالات/مضامین
مقدمہ کلام آتش
خلیل الرحمن اعظمی
شاعری تنقید
آتش رفتہ کا سراغ
مشرف عالم ذوقی
ناول
خواجہ حیدر علی آتش لکھنوی
شعیب راہی
تحقیق
کہاں کے شمع و پروانے گئے مربہت آتش بجاں تھے اس چمن میں
آتش و انجماد ہے مجھ میںکیسا کیسا تضاد ہے مجھ میں
وہی بیباکیٔ عشاق ہے درکار اب بھیہے وہی سلسلۂ آتش و گلزار اب بھی
تجھ بن اے داغ بخش سینہ و دلچمن لالہ دشت آتش ہے
نگاہ طائر زنداں اٹھی تھی گھر کی طرفکہ سوز آتش گریاں سے داغ جلنے لگے
پتہ رقیب کا دے جام جم تو کیا ہوگاوہ پھر اٹھائیں گے جھوٹی قسم تو کیا ہوگا
اجی کیا شمع کیا پروانہ دونوں جل بجھے آخرکوئی آتش فشاں ہو کر کوئی آتش بجاں ہو کر
آتش بجاں ہے برق تپاں کس کے واسطےہم آشیاں بنائیں یہ حسرت نہیں رہی
بیکلی کا گماں عطشؔ تھا مگریہ نہ سمجھا تھا اس قدر ہوگی
عطش عطش کی صدائیں اٹھی سمندر سےتو دشت پیاس کے چشمے کہاں لگائیں گے
ماہیٔ بے آب سا بیتاب ہے سارا زمانہاور میں شاداب ہوں آتش بجاں ہوتے ہوئے بھی
جادہ عمر عطشؔ پاؤں کی گردش ٹھہریدشت سمٹا نہ کبھی دامن صحرا گزرا
اک گنہ گار عطش خیمۂ بخشش کی طرفپیروں کے بل نہیں وہ آنکھوں کے بل جائے گا
کشتیٔ زیست کھے رہے ہیں عطشؔبحر کار محال میں گم ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books