aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "badan"
پیار کی آنچ سے جل اٹھا کنول کانت بدناس سے صورت مری نینوں میں چھپائی نہ گئی
ہری ونش رائے بچن
1907 - 2003
شاعر
بیان میرٹھی
1840 - 1900
مصنف
بیاں احسن اللہ خان
1727 - 1798
تصویر دہلوی
died.1868/9
اجیت سنگھ بادل
born.1973
کرشن گوپال مغموم
born.1916
اسلم بدر
born.1944
باون بہاری لال ماتھر شاد
1896 - 1969
بیان یزدانی
1850 - 1900
تاج الفحول اکیڈمی، بدایوں
ناشر
بدرالحسن بدر
بدر احمد مجیبی
باراں فاروقی
بدر عثمانی
علامہ ابوالبیان آزاد
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہےکہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
اس کے بدن کو دی نمود ہم نے سخن میں اور پھراس کے بدن کے واسطے ایک قبا بھی سی گئی
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہےجاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتاترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں
عشقیہ شاعری میں بدن بنیادی مرکزکے طورپرسامنے آتا ہے شاعروں نے بدن کواس کی پوری جمالیات کے ساتھ مختلف اور متنوع طریقوں سے برتا ہے لیکن بدن کے اس پورے تخلیقی بیانیے میں کہیں بھی بدن کی فحاشی نمایاں نہیں ہوتی ۔ اگرکہیں بدن کے اعضا کی بات ہے بھی تواس کا اظہاراسے بدن میں عام قسم کی دلچسپی سے اوپر اٹھا دیتا ہے ۔ بدن پر شاعری کا ایک دوسرا پہلوروح کے تناظرسے جڑا ہوا ہے ۔ بدن کی کثافت سے نکل کرروحا نی ترفع حاصل کرنا صوفی شعرا کا اہم موضوع رہا ہے۔
बदन بَدَن
جسم (گوشت اور ہڈیاں سب)
سنسکرت, عربی
बयाँ بیاں
جزو اول کے مفہوم کا سا بیان یا کلام رکھنے والا. جیسے : اعجاز بیان ، شیریں بیاں (رک)
बय्याँ بَیّاں
بانْہیں کی تخفیف
बदाँ بداں
اس سے (تفسیر کرنے والے کلمے کے ساتھ مل کر)، جیسے بداں وجہ (= اس وجہ سے)، بداں حیثیت (=اس لحاظ سے)، بداں سبب (= اس سبب سے)، وغیرہ
فارسی
تشریح البدن
حکیم علاء الدین خاں
بدن دریدہ
فہمیدہ ریاض
شاعری
ڈوبتے بدن کا ہاتھ
ریاض مجید
بدن کی کل
اے۔ این۔ طیش
طب
اس کا بدن میرا چمن
کرشن چندر
ناول
بدن کشتی بھنور خواہش
خورشید اکبر
مجموعہ
بدن کا طواف
امراؤ طارق
افسانہ
البیان الحسن
حکیم اجمل خاں
طب یونانی
راگ کا بدن
الیاس سیتا پوری
چندن سا بدن
حسنہ کانپوری
رومانی
ڈاکٹر علاءالدین خان
جراحت
شیشہ بدن خواب
کشمیری لال ذاکر
غزل
چندربدن ومہیار
محمد مقیم مقیمی بیجاپوری
مثنوی
بدن بازار
قیصرہ قریشی
خواتین کی تحریریں
عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میںچیختا ہوں بدن کی عسرت میں
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدندوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو
وہ خواب جو برسوں سے نہ چہرہ نہ بدن ہےوہ خواب ہواؤں میں بکھر کیوں نہیں جاتا
سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کیورنہ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں
جو یکسر جان ہے اس کے بدن سےکہو کچھ استفادہ کر لیا کیا
پکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہےبہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگن
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہےاسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گامیں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی
بدن میں ایک طرف دن طلوع میں نے کیابدن کے دوسرے حصے میں رات ہو گئی ہے
سرد جھونکوں سے بھڑکتے ہیں بدن میں شعلےجان لے لے گی یہ برسات قریب آ جاؤ
بیدار کر کے تیرے بدن کی خود آگہیتیرے بدن کی عمر گھٹاتا رہا ہوں میں
یہ روح برسوں سے دفن ہے تم مدد کرو گےبدن کے ملبے سے اس کو زندہ نکالنا ہے
بدن بیٹھا ہے کب سے کاسۂ امید کی صورتسو دے کر وصل کی خیرات رخصت کیوں نہیں کرتے
سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئےسپرد دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
جھکتی ہوئی نظر ہو کہ سمٹا ہوا بدنہر رس بھری گھٹا کو برس جانا چاہئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books