aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "barham"
قسم کھا کے سر کی وہ کہتے ہیں برہمؔیہ گیسو تمہارے سنوارے گئے ہیں
ہمیں ہر حال میں جینا ہے اور ہر حال میں مرنایہ کیسا کھیل ہے برہمؔ ادھر رہنا ادھر جانا
بہرام جی
1828 - 1895
شاعر
بدنام نظر
1941 - 2023
حکیم برہم
1863 - 1929
مصنف
حکیم عبد الکریم
بہرام طارق
امین الدین برہم
برہم سروپ
مطبوعہ مطبع حکیم برہم، گورکھپور
ناشر
برہم پستکالیہ، لاہور
برہم ناتھ دت
1891 - 1975
بدنام رفیعی
مکتبۂ ابراہیمیہ امداد باہمی، حیدرآباد
مطبع برم پریس
دوست محمد کتابدار بہرام مرزا
died.1550
اتل بگائی
اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہے
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گیاگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
تم کو جہان شوق و تمنا میں کیا ملاہم بھی ملے تو درہم و برہم ملے تمہیں
یہ رسم برہم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھیرہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگا
ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھیبرہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
برہم شاعری
बरहम بَرْہَم
فارسی
پریشان، منتشر، پراگندہ
बारहा بارْہا
بار بار، کئی بار، متعدد دفعہ، مسلسل یا متواتر، اکثر
बाहम باہَم
آپس میں، ساتھ ساتھ یکجا، شرکت میں، مل جل کر، میل ملاپ، ایک ساتھ
मरहम مَرہَم
عربی
ایک مرکب دوا جو علاج کے لیے زخموں پر لگائی جاتی ہے، پھایا، لیپ، ضماد، پٹی
کرشن کنور
سوانحی
میرا بھائی
سوانح حیات
جواہر پارے
ڈال ڈال پات پات
خطوط
بھجن چیتاونی برہم گیان
نامعلوم مصنف
ہندو ازم
تھیو صوفی
بہار تھیو صوفیکل فیڈریشن
تصوف
برگ و بار
مجموعہ
القادر
ارشادات
خطبات
پرچم ضیاء
قصائد در مدح نواب حامد علی خان
قصیدہ
شانتی کی عظمت
ذکر و فکر
تحریک اسلامی کے کارکنوں کے باہمی تعلقات
خرم مراد
مذہبی تحریکیں
دیوان بہرام
مسلم ضیائی
دیوان
ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکےروز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے
مجھ سے نظر نہ پھیر کہ برہم ہے زندگیمجھ سے نظر ملا کہ طبیعت اداس ہے
زلفیں کھولیں تو تو ٹک آیا نظرعمر بھر یاں کام دل برہم رہا
مجھ سے برہم آپ کیا ہوئےساری کائنات ہو گئی
جفائیں بہت کیں بہت ظلم ڈھائے کبھی اک نگاہ کرم اس طرف بھیہمیشہ ہوئے دیکھ کر مجھ کو برہم کسی دن ذرا مسکرا کر تو دیکھو
مجھ میں بسی ہوئی تھی کسی اور کی مہکدل بجھ گیا کہ رات وہ برہم نہیں ملا
آئینہ ہے اور وہ ہیں دیکھیےفیصلہ دونوں یہ باہم کیا کریں
تمہارے روٹھ کے جانے سے ہم کو ایسا لگتا ہےمقدر ہم سے برہم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
شام کو دیر سے پہنچوں تو لگتا ہے خفا مجھ سےمجھ سے بہت برہم ہو ایسی گھاتیں کرتا ہے
زلف برہم سنبھال کر چلئےراستہ دیکھ بھال کر چلئے
دل جو دل کیا تھا ایک محفل تھااب ہے درہم جی اور برہم جی
دل میں تازہ غم آشیاں ہے ابھی میرے نالوں سے برہم نہ صیاد ہودھیرے دھیرے یہ آنسو بھی تھم جائیں گے رفتہ رفتہ یہ دل بھی بہل جائے گا
چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشاکہ برگ برگ سمن شیشہ ریزۂ حلبی ہے
چمک تارے سے مانگی چاند سے داغ جگر مانگااڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books