aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "barsaa.e.n"
نشاط پروین برسوی
born.1979
شاعر
سالم چاوش برسمن
مصنف
الگزینڈر بارمن
آر۔برسلے
نوریہ بکڈپو براؤں شریف، سدھارتھ نگر
ناشر
یہ مست مست گھٹا، یہ بھری بھری برساتتمام حد نظر تک گھلاوٹوں کا سماں
یہ پاؤں جب کسی رستے میں رنگ برسائیںتو موسموں کے مقدر چمکنے لگتے ہیں
پھول برسائیں بساط عیش پرروز وصل یار کی باتیں کریں
پھول برسائیں کہ وہ ہنس کے گرائیں بجلیکوئی بھی خاص کرم ہو تو غزل ہوتی ہے
آہن و سنگ و شرر برسائیںآؤ اشجار کی بنیادوں پر
بارش کا لطف یا تو آپ بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔
बर्सांبَرْساں
برس (= سال) کی مجع.
बरसेंبَرْسیں
برس کی جمع
बरसातें खानाبَرْساتیں کھانا
برسات کھانا کی جمع
कहीं गरजें कहीं बरसेंکَہیں گَرجَیں کَہیں بَرسیں
۔مثل۔ ایک کا غصّہ دوسرے پر نکالنے کی جگہ۔
برسوں بعد
حسیب سوز
مجموعہ
کلی منجاروں کی برفیں
شیما مجید
انتخاب
بہارو پھول برساؤ
سلمیٰ کنول
ناول
برسات کے دن برسات کی راتیں
انتصار حسین
رومانی
یاد کی بارشیں
فاطمہ حسن
شاعری
مدارس ثانوی میں ریاضات کی تدریس
سید انصر
شعلوں کی برسات
ہمایوں اقبال
برہن
کرشن گوپال عابد
برسات
ابن سعید
پیاسی برسات
عفت موہانی
ارتداد کے سیلاب کا دفاع
مفتی نظام الدین
مناجات برائے دفع طاعون
نظم
ہندوستانی سنیما: سو برسوں کا سفر
زبیر رضوی
تفریحات
گھر جلا برسات میں
ناز کفیل گیلانی
خواتین کی تحریریں
کبھی وہ آگ کبھی آ کے پھول برسائیںوہ بھولی بسری سی یادیں ہیں زندگی کی طرح
پتھر ہو جائیں یا پانی رم جھم رم جھم برسائیںآنکھیں سارے منظر کو آئینہ کرتی رہتی ہیں
کیوں نہ برسائیں اشک دیدۂ ترآتش عشق کا بجھانا ہے
تارے برسائیں انگارے کرنیں تیر چلاتی ہیںناگن بن کر ڈس لیتی ہے دل کو رات جدائی کی
وہ سوال لطف پر پتھر نہ برسائیں تو کیوںان کو پروائے شکست کاسۂ سائل نہیں
دوستوں کے ہدف پہ ہے اعظمؔاب وہ برسائیں پھول یا پتھر
گھر گھر آئیں مینہ برسائیںچاندی برسے آنگن آنگن دوارے دوارے
تختیٔ دل پہ دیکھیے پیہمتیر برسائیں جھیل سی آنکھیں
برسائیں زہیرؔ اہل جہاں سنگ تو کیا ہےمیں کانچ کا پیالہ ہوں نہ مٹی کا گھڑا ہوں
سوز کی رنگینیاں برسائیں جس نے ساز سےجگمگا اٹھے ستارے جس کی ہر پرواز سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books