aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chataa"
بانو قدسیہ
1928 - 2017
مصنف
شروتی چھایا
born.1984
شاعر
کتب خانہ حیدری چھتہ بازار، حیدرآباد
ناشر
دائرہ پریس چھتہ بازار
چھایا گانگولی
born.1978
فن کار
مطبع فدائی دکن چھتہ بازار
انور پریس چھتہ بازار، حیدرآباد
مکی پریس، چھتہ بازار
خورشید پریس چھتہ بازار، حیدرآباد
دارالاسلام شمس پریس، چھتہ بازار
چشتیہ پریس چھتہ بازار، حیدرآباد
مطبوعات چٹان، لاہور
راجہ چہتو لعل
مدیر
راجہ چھٹو لال
منشی چھٹن لال عیش
آشوب جدائی کیا کہیے ان ہونی باتیں ہوتی ہیںآنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجالی راتیں ہوتی ہیں
دل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کو
چھٹا جہاں سے اس آواز کا گھنا بادلوہیں سے دھوپ نے تلوے جلائے ہیں کیا کیا
دست ضروریات میں بٹتا چلا گیامیں بے پناہ شخص تھا گھٹتا چلا گیا
اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑیئےروز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑیئے
छता چَھتا
(ہندو) ایسا شخص جس کا باپ شودر اور ماں کھتری ہو
سنسکرت
छटा چَھٹا
چھے (رک) سے منسوب ، ترتیب میں پان٘چ کے بعد کا ، ششم .
छाता چھاتا
کشادہ سینہ، بڑی چھاتی
छत्ता چَھّتا
چھت سے پٹا ہوا راستہ، گلی یا بازار جس پر چھت بنی ہوئی ہو، مکان کی ڈیوڑھی جس پر صرف چھت ہو پاکھے نہ ہوں
ہندی
چھٹا دریا
فکر تونسوی
ڈائری
چھٹا دریا (ایک ڈائری)
چھٹا بیٹا
اوپندر ناتھ اشک
ڈرامہ
چھٹا سال 1953 ایک مختصر جائزہ
نامعلوم مصنف
تبصرہ
چھٹا قلزم
منشی گوری شنکر لال اختر
ریشم کا جال
ارمان شمسی
لقمان حکیم
بی ایل چڈا
سوانح حیات
آخری چٹان
نسیم حجازی
ناول
میں رونا چاہتا ہوں
فرحت احساس
مجموعہ
چارۂ درد
عبد الحمید عدم
شاعری
ہماری اردو کی کتاب
محمد صابرین
نصابی کتاب
ایک چھوٹا سا جہنم
ساجد رشید
افسانہ
اردو کی نئی کتاب
شہریار
چلتا پرزہ
اردو کی چھٹی کتاب
مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی
کوئی بتا دے یہ سورج کو جا کے ہم نے بھیشجر کو دھوپ میں چھاتا بنا کے رکھا ہے
آپ کی حرف ادائی کا یہ عالم ہے کہ ابپیڑ پر شہد کا چھتا بھی غلط لگتا ہے
پانی پی کر چارا چر کرشام کو آئی اپنے گھر پر
تب کہیں ہوتا ہے اک شہد کا چھتا تیاران گنت پھولوں کا خوں جب یہ مگس پیتے ہیں
ہم سے تو اک شعر سن کر فلسفی چپ ہو گیالیکن اس نے بے زباں نقاد کو چاٹا بہت
گوارا کب ہے ممتا کو مرا یوں دھوپ میں چلنامری ماں اوڑھنی پھیلا کے اک چھاتا بناتی ہے
یہ کچھ رینگتا کچھ گھسٹتا ہواپرانے شوالے کی جانب چلا
خون شفق کے دل کا چاٹاچار طرف خاموشی چھائی
شاید کہ ملے ذات کے زنداں سے رہائیدیوار کو چاٹا ہے ہواؤں سے لڑے ہیں
بارش میں بھیگتی ہوئی لڑکی کو کیا خبرفٹ پاتھ پر پڑا ہوا چھاتا اداس ہے
بدن کو توڑ کے باہر نکلنا چاہتا ہےیہ کچھ تو ہے یہ مچلتا ہوا سا کچھ تو ہے
میں نے جب اس کو بتایا تو ذرا ابر چھٹااس نے اوروں کی زبانی ہی سنا تھا مجھ کو
مغز چاٹا کبھی اندوز و نصیحت والےغم ہمارا کسی غم خوار سے کھایا نہ گیا
رحمتیں برسا کے بھی ابر کرم چھٹتا نہیںایسے لگتا ہے کہ سایہ چرخ پر مٹی کا ہے
دل ہو حساس تو جینے میں بہت گھاٹا ہےمیں نے خود اپنے ہی زخموں کا لہو چاٹا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books