aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chatkaa"
بانو قدسیہ
1928 - 2017
مصنف
رام لعل
1923 - 1996
جواہر لعل نہرو
1889 - 1964
کتب خانہ حیدری چھتہ بازار، حیدرآباد
ناشر
دائرہ پریس چھتہ بازار
محمد کریم چاگلہ
مطبع فدائی دکن چھتہ بازار
منموہن چھابڑا
سبودھ چندر سین گپتا
من موہن لال چھابڑہ
جگدیش چندر چڈھا
جی۔ ایس۔ چھابڑا
ہری چند چڈھا
امن دیب سدھو چڈھا
شاعر
بی ایل چڈا
میں جو پربت پر چڑھا وہ اور اونچا ہو گیاآسماں جھکتا نظر آیا مجھے میدان پر
خموشی انگلیاں چٹخا رہی ہےتری آواز اب تک آ رہی ہے
چٹکا جو چمن میں غنچۂ گلبو دے گئی گفتگو تمہاری
افضلؔ میں سوچتا ہوں یہ کیا ہو گیا مجھےمٹی ملی تو اور بھی چٹخا ہوا ہوں میں
ضبط کا شیشہ چٹخا ہوگایاد نے کنکر پھینکا ہوگا
चटका چَٹْکا
ہجر و فراق کا ایک پُر سوز گیت جو عموما کورس کے انداز میں کومل سروں میں گایا جاتا ہے اور اس میں دل دوز جذبات کا اظہار ہوتا ہے
ہندی
चटख़ा چَٹْخا
(این٘ٹ سازی) وہ این٘ٹ جو پزاوے میں تیز آن٘چ کھا کر جگہ جگہ سے تڑخ جائے
छटका چھَٹْکا
چھٹکانا کا امر
छता چَھتا
(ہندو) ایسا شخص جس کا باپ شودر اور ماں کھتری ہو
سنسکرت
لقمان حکیم
سوانح حیات
میں رونا چاہتا ہوں
فرحت احساس
مجموعہ
چچا عبد الباقی اور بھتیجے بختیار خلجی کے ناکارنامے
محمد خالد اختر
نثر
چھٹا دریا
فکر تونسوی
ڈائری
الو تنتر عرف خزانہ طلسمات
بنسی لال چڈھا
دیگر
چچا چھکن
سید امتیاز علی تاج
مضامین
لولی نامہ، چکی نامہ، ہرنی نامہ، چرخہ نامہ
نظیر اکبرآبادی
چچا چھکن کی عینک کھوئی گئی
عصمت چغتائی
افسانہ
80 دن میں دنیا کا چکر
ژول ورن
چچا چھکن نے تیمارداری کی
قدسیہ زیدی
چلتا پرزہ
ناول
چچا غالب
حسین حسان ندوی
مرتبہ
چچا چھکن نے دھوبن کو کپڑے دیے
ڈراما
پن چکی اورنگ آباد
سید مبارز الدین رفعت
ہندوستانی تاریخ
چھٹا دریا (ایک ڈائری)
ہمارے درمیاں الفاظ گم ہیںخموشی انگلیاں چٹخا رہی ہے
سنبھالے ہوں خود کو بڑی کاوشوں سےمجھے چھو نہ لینا میں چٹخا ہوا ہوں
تاریخ دل کی خود نقش دل ہےکھا کھا کے چوٹیں چٹکا نگینہ
برگ گل دیکھ کے آنکھوں میں ترے پھر گئے لبغنچہ چٹکا تو مجھے لطف سخن یاد آیا
غنچہ چٹکا تھا کہیں خاطر بلبل کے لئےمیں نے یہ جانا کہ کچھ مجھ سے کہا ہو جیسے
بے فیض عجب نکلی یہ فصل تمنا بھیپھوٹی نہیں کونپل بھی چٹکا نہیں غنچہ بھی
دھرتی پہ پٹخاسر اس کا چٹخا
بہار آتے ہی زخم دل ہرے سب ہو گئے میرےادھر چٹکا کوئی غنچہ ادھر ٹوٹا ہر اک ٹانکا
زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیازور دل کے ہاتھ لٹکا لگ گیا
غنچہ چٹکا کوئی گلشن میں تو لیلیٰ سمجھیمیرے مجنوں نے پکارا مجھے ویرانے سے
چٹکا کر اس کا کانچکچھ گھاووں سے
حریص ہو نہ جہاں میں نہ اپنا جی بھٹکازباں بگڑ گئی گر اس کو آ گیا چٹکا
غنچہ چٹکا نہ کوئی پھول کھلا میرے بعدمیں چلا تو نہ چلی باد صبا میرے بعد
چٹکا بھی تو دل کی طرح آواز نہ ابھریجو خاک سے میری بنا پیمانہ وہی ہے
کیا پتا کر دے بدن کو باغ باغغنچۂ بوسہ جو چٹکا ہے ابھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books