aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chhanke"
راہی حمیدی چاند پوری
born.1942
مصنف
مطبع چمن ہند
ناشر
چانن سنگھ شاد
یونائٹیڈ چوک انارکلی، لاہور
کنگن کھنکے ہاتھوں میں اور پائل چھنکے پاؤں میںاب کے ساون او پردیسی آ جا اپنے گاؤں میں
ممکن ہے ان کے یہاں نئے سیاسی فلسفوں اور صنعتی ترقی کی بنا پر جو سماجی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، اور سائنس کی ترقی کی بنا پر جو ذہنی بحران پیدا ہوا، اس کا احساس ہم لوگوں کو نہ ہو۔ لیکن وہاں تو یہ عالم تھا کہ لوگوں کے ذہنوں میں...
مل جائے مجھ کو چانس جو ہیرو کا دوستوپل میں پچھاڑ ڈالوں گا شیر و ببر کو میں
ہر دھڑکن میں ہر آنگن میںکہ چھنکے ہاتھ کے کنگن میں
برج ''عمل'' میں ''چانس'' کے سورج کی کر گرفتسڑکیں ہیں ''زائچہ'' ترا یہ قمقمے نجوم
مایوسی زندگی میں ایک منفی قدر کے طور پر دیکھی جاتی ہے لیکن زندگی کی سفاکیاں مایوسی کے احساس سے نکلنے ہی نہیں دیتیں ۔ اس سب کے باوجود زندگی مسلسل مایوسی سے پیکار کئے جانے کا نام ہی ہے ۔ ہم مایوس ہوتے ہیں لیکن پھر ایک نئے حوصلے کے ساتھ ایک نئے سفر پر گامزن ہوجاتے ہیں ۔ مایوسی کی مختلف صورتوں اور جہتوں کو موضوع بنانے والا ہمارا یہ انتخاب زندگی کو خوشگوار بنانے کی ایک صورت ہے ۔
تمنائیں اور آرزوئیں ایک طور پر انسان کا سرمایہ بھی ہیں اور ساتھ ہی زندگی میں ایک گہرے دکھ اور حسرتوں کا سبب بھی ۔ انسان انہیں پالتا ہے لیکن وہ تمنائیں کبھی پوری نہیں ہوتیں ۔ ہم نے تمنا اور اس کی مختلف شکلوں پر محیط شاعری کا ایک چھوٹا سا انتخاب کیا ہے ۔ اس قسم کی شاعری ہمیں زندگی کو نئے ڈھنگ سے اور پہلے سے زیادہ بڑی اور پھیلی ہوئی سطح پر سوچنے کیلئے تیار کرتی ہے ۔
chancechance
بار
छानेچھانے
چھان٘واں
चक्केچَکّے
(ہندو) ہندوؤں کا ایک تیوہار جس میں چکی کی پسی ہوئی کوئی چیز نہیں کھائی جاتی .
चरकेچَرْکے
چرکا کا مع تحتی کی جمع یا محرفہ شکل، تراکیب میں مستعمل
چلتے ہو تو چین کو چلیے
ابن انشا
نثر
چلتے ہو تو چین کو چلئے
چمکی
مرزا عظیم بیگ چغتائی
چناب سے گومتی تک
بشیشر پردیب
خود نوشت
چاہنے والے
فاروق ارگلی
رومانی
چلتے چلتے
عدیل زیدی
مجموعہ
بادشاہ بننا چاہتے ہو یا ولی
امام محمد غزالی
چلتے پھرتے چہرے
راجندر سنگھ بیدی
چاک گریباں
آغا بابر
سبھاش مکھوپادھیائے
نظم
ہم امن چاہتے ہیں
ھربنس سنگھ دوست
انتخاب
چکلے
ساحر ہوشیار پوری
افسانہ
چانجے چھتے
تحقیق
چہل ربنا
محمد راشد قریشی
پگڈنڈیوں پہ چلنے والے مسافر
خالد سہیل
تری صداؤں کے گھنگھرو فضا میں یوں چھنکےکہ جیسے باغ میں بلبل چہکنے لگتے ہیں
گولڈن چانس ہے تمہارے لیےتیسری بار مر رہا ہوں میں
زندگی چانس ہےحادثہ زندگی
پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والامیں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیںتنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
تو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سراب
تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں
چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغمستقل بعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہےمری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے
تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو میں جیسے چاہے لگاؤں بازیاگر میں جیتا تو تم ہو میرے اگر میں ہارا تو میں تمہارا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books