aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chhe.Dnaa"
مزمل حسین چیمہ
born.1993
شاعر
شیدا چینی
مصنف
تمل ناڈو اردو پبلیکیشنز، چنئی
ناشر
چندنا دتہ
تمل ناڈو اردو اکیڈمی، چنئی
نجمہ یونس چیمہ
سبودھ چندر سین گپتا
رام لال چھیدی لال راٹھور
جگدیش چندر چڈھا
ہری چند چڈھا
امن دیب سدھو چڈھا
مسعود احمد چیمہ
بی ایل چڈا
بنسی لال چڈھا
چیتنا پرکاشن، لدھیانہ
شوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترااور مرا وہ چھیڑنا وہ گدگدانا یاد ہے
حسن کہتا تھا چھیڑنے والےچھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی
ہمیں ہیں سوز ہمیں ساز ہیں ہمیں نغمہذرا سنبھل کے سر بزم چھیڑنا ہم کو
میں نے جب ساز چھیڑنا چاہاخامشی چیخ اٹھی صدا ہوں میں
شاعروں نے محبوب کے چہرے اور اس کی صورت کی مبالغہ آمیز تعریفیں کی ہیں اور اس باب میں اپنی تخلیقی قوت کا نئے نئے طریقوں سے اظہار کیا ہے ۔ محبوب کے چہرے کی خوبصورتی کا یہ بیانیہ ہم سب کے کام کا ہے ۔ چہرے کو بنیاد بنا کر اور بھی کئی طرح کے موضوعات اور مضامین پیدا کئے گئے ہیں ۔
छेड़ना چھیڑْنا
چھونا، ہاتھ لگانا، مس کرنا
سنسکرت
छेदना چھیدْنا
سوراخ کرنا
छोड़ना چھوڑنا
ترک کرنا، تیاگنا
छेड़ा چھیڑا
وہ دھات یا مسالا جس کے اثر سے دوسری دھات تیزابی محلول سے جدا ہو جائے مثلاً تا٘نبا جو تیزاب میں حل شدہ چاندی کو خود تیزاب میں حل ہو کر خارج کر دیتا ہے، راؤٹی، کامی، گون٘ٹی، وہ دھات جو دوسری دھات کو صاف کر دے یا آسانی سے پگھلا دے
لقمان حکیم
سوانح حیات
چاند چہرہ ستارہ آنکھیں
عبید اللہ علیم
مجموعہ
چینی لوک کہانیاں
افسانہ / کہانی
غزل چہرہ
قیصر صدیقی
الو تنتر عرف خزانہ طلسمات
دیگر
چہرہ در چہرہ
مجتبی حسین
نثر
چیدہ شخصیتیں
ابوالکلام آزاد
خاكه
چہرہ بچہرہ روبرو
جمیلہ ہاشمی
ناول
آئینہ چہرہ ڈھونڈتا ہے
فیروز ناطق خسرو
غزل
نظریات و فلسفۂ طب
طب یونانی
آکیٔوپنکچر و ماکسی بوشن کے بنیادی استعمال
محمد ظہیر الدین
طب
ایک ہی چہرہ تھا گھر میں
خوشبیر سنگھ شادؔ
چینی مسلمان
بدرالدین چینی
پردہ اٹھادوں اگر چہرۂ الفاظ سے
ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم
قصہ / داستان
چینی کی انگوٹھی اور لوٹے کا راز
مرزا عظیم بیگ چغتائی
کالیگرافی / خطاطی
چھیڑنا ہی ہے ساز زیست مجھےآگ برسائیں گے لب گفتار
ترچھی نظر سے آپ مجھے دیکھتے ہیں کیوںدل کو یہ چھیڑنا ہی شرارت کی بات ہے
راکھ کے ڈھیر کواب مناسب نہیں چھیڑنا
خاص وقت یاد گلشن اور میرا چھیڑناشب کو بھی صیاد میرے ذبح سے غافل نہ تھا
وہ نوشادؔ کا چھیڑنا وصل کی شبوہ شرما کے آنکھیں جھکانا کسی کا
غضب ہے چھیڑنا اس فتنہ گر کویہ انجمؔ دل میں کیا تو ٹھانتا ہے
دل کا احوال کہ کچھ ذکر زمانہ چھیڑوںبات یوں چھیڑنا اچھا ہے کہ یوں اچھا ہے
وہ زود رنج ہے اس کو نہ چھیڑنا رعناؔملو گے ہاتھ اگر بر سر عتاب آیا
ہر گھڑی چھیڑنا بھی مناسب نہیںبن گئی زندگی میں تراشا غزل
ہم کو نہ چھیڑنا بھلا سن اے امیر شہرہم اور ہی فقیر ہیں جا اپنی راہ لے
خوف کر ہم دل جلوں کی آہ سےچھیڑنا ہم کو نہیں بہتر نہ چھیڑ
خوں نابۂ سرشک پہ یوں خاک ڈالناپھر چھیڑنا کہ سرخیٔ رنگ حنا ہے کیا
ابھی مت چھیڑنا مجھ کوابھی ہر زخم کاری ہے
کہ اک خرگوش کو کیسے اٹھایا جائے کانوں سے پکڑ کرکہ اک بلی کے بچے کو اگر ہم چھیڑنا چاہیں
ہے کیسا ماجرا کچھ تم بھی دیکھویہ کیا چہرا دکھائی دے رہا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books