aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dar-o-baam-e-shab"
اراکین مجلس انتظامی بزم شاب
مدیر
دار عرفات، لکھنؤ
ناشر
ادارۂ شب رنگ، الہ آباد
مصنف
دار عرنوس، نئی دہلی
بزم شاد، پٹنہ
دار عمر للطباعت و النشر، نئی دہلی
بزم صدف انٹرنیشنل
عطیہ کار
بزم اقبال، لاہور
بزم احساس ادب، فتح پور
حلقۂ بزم ادب، للت پور
بزم اہل قلم ہزارہ
بزم معیار ادب، بھوپال
بزم ارباب ادب، کلکتہ
بزم فروغ اردو، جالندھر
بزم ساز و ادب، دہلی
خواب لکھتی رہیں آنکھیں در و بام شب پرصبح اک پہلو دکھاتی رہی سچائی کا
آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویر در و بامیہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر
جل اٹھے بزم غیر کے در و بامجب بھی ہم خانماں خراب آئے
خوشی ہے یہ کہ در و بام بچ گئے گھر کےمرے ہیں لوگ مگر کافی میرے لشکر کے
اس چاند کی انگڑائی سے روشن ہیں در و بامجو پردۂ شب رنگ پہ ابھرا بھی نہیں ہے
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
ماں سے محبت کا جذبہ جتنے پر اثر طریقے سے غزلوں میں برتا گیا ہے، اتنا کسی اور صنف میں نہیں۔ ہم ایسے کچھ منتخب اشعار آپ تک پہنچا رہے ہیں، جو ماں کو موضوع بناتے ہیں۔ ماں کے پیار، اس کی محبت ، شفقت اور اپنے بچوں کے لئے اس کی جاں نثاری کو واضح کرتے ہوئے یہ اشعار جذبے کی جس شدت اور احساس کی جس گہرائی سے کہے گئے ہیں، اس سے متاثر ہوئے بغیر آپ نہیں رہ سکتے۔ ان اشعار کو پڑھئے اور ماں سے محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجئے ۔
دروبام تخیل
فرخ ہمایوں
شاعری
بزم شاد
نامعلوم مصنف
زیروبم
فارغ بخاری
مجموعہ
تحفۂ درد نیم شب
اشوک ساہنی ساحل
تسبیح روز و شب
صغریٰ مہدی
ڈائری
چراغ آخر شب
محمود الحسن
زیر و بم
مولانا اشرف علی تھانوی
حمد
حرف نیم شب
شمیم کرہانی
افسانۂ نیم شب
ڈاکٹر اصغر کمال
دشت و روز وشب
میر ہاشم
آخر شب
دیوار شب
جابر حسین
پسِ دیوارِ شب
سکندر محسن
سلسلۂ روز وشب
ڈاکٹر سلیم خان
سلسلہ روز و شب (مثنوی)
محبوب انور
Jan 2012مثنوی
مری نظر کو در و بام پر لگایا ہوا ہےچلو کسی نے مجھے کام پر لگایا ہوا ہے
شرط دیوار و در و بام اٹھا دی ہے تو کیاقید پھر قید ہے زنجیر بڑھا دی ہے تو کیا
خواب کی راہ میں آئے نہ در و بام کبھیاس مسافر نے اٹھایا نہیں آرام کبھی
یوں خوش نہ ہو اے شہر نگاراں کے در و بامیہ وادئ سفاک بھی رہنے کی نہیں ہے
کچھ تذکرۂ حسن سے روشن تھے در و بامکچھ شمع نے بھی بزم کو چمکایا ہوا تھا
کل ساتھ تھا کوئی تو در و بام تھے روشنتنہا ہوں وسیمؔ آج تو گھر کاٹ رہا ہے
وہی آہٹیں در و بام پر وہی رت جگوں کے عذاب ہیںوہی ادھ بجھی مری نیند ہے وہی ادھ جلے مرے خواب ہیں
سونے پڑے ہیں دل کے در و بام اے ظہیرؔلاہور جب سے چھوڑ کے جان غزل گیا
کانوں میں چھما چھم کو در و بام نے باندھابارش کا مزہ ڈھلتی ہوئی شام نے باندھا
بیٹھے ہیں سر بام فلک زلف بکھیرےجیسے کہ کہیں ڈالے ہوں بنجاروں نے ڈیرے
میں سمجھتا تھا در و بام کہاں بولتے ہیںپھر ترے بعد کھلا مجھ پہ کہ ہاں بولتے ہیں
خرابۂ بام و در بہت یاد آ رہا ہےنہ جانے کیوں آج گھر بہت یاد آ رہا ہے
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترےاے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
رات سناٹا در و بام کے ہونٹوں پہ سکوتراہیں چپ چاپ ہیں پتھر کے بتوں کی مانند
اتری ہیں در و بام سے اکثر تری یادیںآتی ہیں دریچوں سے بھی چھن کر تری یادیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books