دیر و حرم پر شاعری

دیر وحرم اور ان سے وابستہ افراد کے درمیان کی کشمکش اور جھگڑے بہت پرانے ہیں اور روز بروز بھیانک روپ اختیار کرتے جارہے ہیں ۔ شاعروں نے اس موضوع میں ابتدا سے ہی دلچسپی لی ہے اور دیر وحرم کے محدود دائرے میں بند ہوکر سوچنے والے لوگوں کو طنز کا نشانہ بنایا ہے ۔ دیر وحرم پر ہمارے منتخب کردہ ان اشعار کو پڑھ کو آپ کو اندازہ ہوگا کہ شاعری کی دنیا کتنی کھلی ہوئی ، کشادہ اور زندگی سے بھرپور ہے ۔

کبھی تو دیر و حرم سے تو آئے گا واپس

میں مے کدے میں ترا انتظار کر لوں گا

عبد الحمید عدم

مے خانے میں کیوں یاد خدا ہوتی ہے اکثر

مسجد میں تو ذکر مے و مینا نہیں ہوتا

ریاضؔ خیرآبادی

شوق کہتا ہے پہنچ جاؤں میں اب کعبہ میں جلد

راہ میں بت خانہ پڑتا ہے الٰہی کیا کروں

امیر مینائی

یہ کہہ دو حضرت ناصح سے گر سمجھانے آئے ہیں

کہ ہم دیر و حرم ہوتے ہوئے مے خانے آئے ہیں

tell this to the priest if he has come to preach

I first went to the mosque, then did the tavern reach

tell this to the priest if he has come to preach

I first went to the mosque, then did the tavern reach

نامعلوم

دیر و کعبہ میں بھٹکتے پھر رہے ہیں رات دن

ڈھونڈھنے سے بھی تو بندوں کو خدا ملتا نہیں

دتا تریہ کیفی

نہیں دیر و حرم سے کام ہم الفت کے بندے ہیں

وہی کعبہ ہے اپنا آرزو دل کی جہاں نکلے

اصغر گونڈوی

کیسے بھولے ہوئے ہیں گبر و مسلماں دونوں

دیر میں بت ہے نہ کعبے میں خدا رکھا ہے

لالہ مادھو رام جوہر

دیر و حرم کو دیکھ لیا خاک بھی نہیں

بس اے تلاش یار نہ در در پھرا مجھے

بیخود بدایونی

اس طرف دیر ادھر کعبہ کدھر کو جاؤں

اس دوراہے میں کہاں یار رہا کرتا ہے

لالہ مادھو رام جوہر

سوئے کعبہ چلوں کہ جانب دیر

اس دوراہے پہ دل بھٹکتا ہے

لالہ مادھو رام جوہر

یہ ثابت ہے کہ مطلق کا تعین ہو نہیں سکتا

وہ سالک ہی نہیں جو چل کے تا دیر و حرم ٹھہرے

حبیب موسوی

میں دیر و حرم ہو کے ترے کوچے میں پہنچا

دو منزلوں کا پھیر بس اے یار پڑا ہے

لالہ مادھو رام جوہر