aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daur-e-jaam-e-sharaab"
مکتبہ جامع نور، دہلی
ناشر
مطبع اخبار جام جمشید-مراد آباد
ادارہ جام جہاں نما، لکھنؤ
جام نو، کراچی
دور حیات پبلکیشن، ممبئی
مظہر مرزا جان جاناں
1699 - 1781
شاعر
مظہر جانجاناں
مصنف
مجلس شرعی، اعظم گڑھ
مکتبہ شہاب دیوبند
مکتبۂ شاداب، حیدرآباد
طبقاتی جدوجہد پبلیکیشنز، لاہور
شہزادہ جان عالم
مدیر
مکبتۂ حسن وشباب، دہلی
بزم جامی بدایونی
مطبع جان جہاں، دہلی
گرچہ معجون کھا چکے لیکندور جام شراب باقی ہے
مجلس چشم مست ساقی میںدور جام شراب دیکھا ہوں
سجائی تھی ہم نے بزم ساقی کہ دور جام شراب ہوگایہ کیا خبر تھی کہ میکدے میں ہمیں پہ تیری نظر نہ ہوگی
شکریہ اے گردش جام شرابمیں بھری محفل میں تنہا ہو گیا
آفتاب آئے چمک کر جو سر جام شرابرند سمجھیں کہ ہے صادق سحر جام شراب
جاں نثاراختر کو ایک شاعر کے طور پر ان کی نمایاں خدمات کے لیے پہچانا جاتا ہے۔ جنہوں نے رومانوی اور انقلابی دونوں موضوعات میں مہارت حاصل کی۔ہم یہاں ان کی کچھ نظموں کا انتخاب پیش کر رہے ہیں۔پڑھیے اور لطف اٹھایئے۔
اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
بہ آئینہ جام جہان نما
نامعلوم مصنف
درد تہہ جام
نازش پرتاپ گڑھی
مجموعہ
درد تہ جام
زاہدہ زیدی
مقالات/مضامین
جام سہ آتشہ
پریم رنگ پوری
ساغر جم جام سفال
اسلم بدر
سوانح حیات
جام جم
مضطر حیدری
کوثر چاند پوری
نشتر مقتدری سکندرآبادی
شمارہ نمبر-001
حمید عظیم آبادی
محمد ذوالنورین
شاعری
شمارہ نمبر-002
مثنوی جام جم
اوحد الدین اوحدی مراغہ ای
اختر حسن
انتخاب
بابو امبا پرشاد
سرسوں جو پھولی دیدۂ جام شراب میںبنت العنب سے کرنے لگا شوخیاں بسنت
موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میںیا خون اچھل رہا ہے رگ ماہتاب میں
بزم سے آخر شب ہے سفر جام شرابشام غربت ہوئی ساقی سحر جام شراب
پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شرابمجھ کو بد نام کرے گی ہوس جام شراب
شکوۂ دور جام ہے ساقیزندگی تشنہ کام ہے ساقی
کیوں جام شراب ناب مانگوںساقی کی نظر میں کیا نہیں ہے
موسم گل ہے نہ دور جام و صہبا رہ گیالے گئی سب کو جوانی میں اکیلا رہ گیا
جب اٹھایا ہے جام شراب کہنپڑ گئی عصر نو کی جبیں پر شکن
لا جام شراب دے لبالب بالکلکس وقت مگر جب ہوں چہکتے بلبل
نرالے ہیں یہی دنیا میں توبہ توڑنے والےادھر ساقی ریاضؔ آئے ادھر جام شراب آیا
جب تک دور جام چلے گاساقی تیرا نام چلے گا
ہماری آنکھوں کے آگے محفل میں دور جام و سبو چلے ہیںبس ایک ہم ہیں کہ تیری محفل سے پی کے اپنا لہو چلے ہیں
کب پلاوے گا تو اے ساقی مجھے جام شرابجاں بلب ہوں آرزو میں مے کی پیمانے کی طرح
جام شراب اب تو مرے سامنے نہ رکھآنکھوں میں نور ہاتھ میں جنبش کہاں ہے اب
میں تھا کسی کی یاد تھی جام شراب تھایہ وہ نشست تھی جو سحر تک جمی رہی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books