aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dekhiye"
اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھااب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی
راہ دور عشق میں روتا ہے کیاآگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتاررکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
خود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپناجب دیکھیے اب وہ ہیں آئینہ ہے شانا ہے
دیکھیے ابر کی طرح اب کےمیری چشم پر آب کی سی ہے
کسی بھی طالب علم کی زندگی میں استاد کا ایک اہم مقام ہوتا ہے۔ جہاں ماں باپ بچوں کی جسمانی نشو و نما میں حصہ لیتے ہیں وہیں استاد ذہنی ترقی میں۔ آج کا دن استاد کی انہیں عنایتوں کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا ہے۔ اس عالمی یوم استاد پر ہم نے آپ کے لیے کچھ اچھے شعروں کا ایک انتخاب کیا ہے انہیں پڑھیے اور اپنے استادوں کے ساتھ شئیر کیجیے۔
استاد کو موضوع بنانے والے یہ اشعار استاد کی اہمیت اور شاگرد و استاد کے درمیان کے رشتوں کی نوعیت کو واضح کرتے ہیں یہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ نہ صرف کچھ شاگردوں کی تربیت بلکہ معاشرتی اور قومی تعمیر میں استاد کا کیا رول ہوتا ہے ۔ اس شاعری کے اور بھی کئی پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
کانٹے پھولوں کے مقابلے میں ساری متضاد صفات رکھتے ہیں ۔ وہ سخت ہوتے ہیں ، بد صورت ہوتے ہیں ، چبھ کر تکلیف پہنچاتے ہیں لیکن ان کا یہ سارا کردار ظاہر ہوتاہے ۔ اس میں کوئی دوغلہ پن نہیں ہوتا وہ پھولوں کی طرح اپنی ظاہری چمک دمک سے لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتے ۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے موضوعات ہمارے منتخب کردہ ان شعروں میں نظر آئیں گے ۔ ان شعروں میں آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ کس طرح پھول اور کانٹوں کے بارے ہمارے عمومی تصورات ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں ساتھ ہی یہ بھی محسوس کریں گےکہ کس طرح پھول اور کانٹوں کا استعارہ زندگی کی کتنی متنوع جہتوں کو سموئے ہوئے ہے ۔
देखिए دیکْھیے
خدا جانے کیا ہو، واللہ اعلم
देखियो دیکْھیو
یاد رہے، باخبر رہو، آگاہی ہو
देखिया دیکِھیا
دیکھا
देखिये तो دیکْھیےتو
سمجھ رکھو.
پھول دیکھے نہ گئے
پرنم الہ آبادی
شاعری
اٹلی ہے دیکھنے کی چیز
سلمیٰ اعوان
سفر نامہ
آنکھن دیکھی
ذکیہ مشہدی
افسانہ
خواب دیکھنے والو
نسیم نکہت
اب جن کے دیکھنے کو
بیگم انیس قدوائی
خاکے/ قلمی چہرے
دکھیا ہندی کی پکار
غازی محمد عبداللہ
دیکھے ہیں صنم پتھر کے
مینا ناز
ناول
کچھ دیکھے کچھ سنے
نند کشور وکرم
مضامين و خاكه
مولانا محمد علی جوہر: آنکھوں دیکھی باتیں
معصوم مرادآبادی
میں نے ایک عورت دیکھی
سید ضمیر حسن
آنکھوں دیکھی
مناظر عاشق ہرگانوی
غدر کی دکھیا
علامہ ابوالبیان آزاد
خواب مجھے دیکھتے ہیں
عذرا عباس
تواریخ اوجینہ
منشی گنگا پرشاد
دیکھی تیری بمبئی
فلمی نغمے
سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیابات تو صرف اک رات کی تھی مگر انتظار آپ کا عمر بھر کر لیا
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
ایک بے چہرہ سی امید ہے چہرہ چہرہجس طرف دیکھیے آنے کو ہے آنے والا
شاہ کے ہے غسل صحت کی خبردیکھیے کب دن پھریں حمام کے
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیںہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
وسیمؔ صدیوں کی آنکھوں سے دیکھیے مجھ کووہ لفظ ہوں جو کبھی داستاں نہیں ہوتا
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہمر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
خود کو پہچان کے دیکھے تو ذرا یہ دریابھول جائے گا سمندر کی طرف جانا بھی
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
دیکھیے جس کو اسے دھن ہے مسیحائی کیآج کل شہر کے بیمار مطب کرتے ہیں
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساطدامان باغبان و کف گل فروش ہے
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
صرف اتنے کے لیے آنکھیں ہمیں بخشی گئیںدیکھیے دنیا کے منظر اور بہ عبرت دیکھیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books