aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dekhne"
افسر دکنی
born.1949
مصنف
رونق دکنی
شاعر
ظہور تر شیزی دکھنی
ڈینیل ڈیفو
1660 - 1731
ڈیوڈ جیمس ڈیلن
ڈیسنٹ آفسیٹ پرنٹنگ پریس، حیدرآباد
ناشر
حمیدیہ گرلز ڈگری کالج، الہ آباد
نہ یہ کہ حسن تام ہونہ دیکھنے میں عام سی
اور کیا دیکھنے کو باقی ہےآپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباددیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھےتباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
دکنی ادب کے شائقین کے لئے ریختہ نے سو مشہور، معیاری اور معتبر کتابوں کا انتخاب کیا ہے۔
کسی بھی طالب علم کی زندگی میں استاد کا ایک اہم مقام ہوتا ہے۔ جہاں ماں باپ بچوں کی جسمانی نشو و نما میں حصہ لیتے ہیں وہیں استاد ذہنی ترقی میں۔ آج کا دن استاد کی انہیں عنایتوں کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا ہے۔ اس عالمی یوم استاد پر ہم نے آپ کے لیے کچھ اچھے شعروں کا ایک انتخاب کیا ہے انہیں پڑھیے اور اپنے استادوں کے ساتھ شئیر کیجیے۔
استاد کو موضوع بنانے والے یہ اشعار استاد کی اہمیت اور شاگرد و استاد کے درمیان کے رشتوں کی نوعیت کو واضح کرتے ہیں یہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ نہ صرف کچھ شاگردوں کی تربیت بلکہ معاشرتی اور قومی تعمیر میں استاد کا کیا رول ہوتا ہے ۔ اس شاعری کے اور بھی کئی پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
देखने دیکْھنے
دیکھنا (رک) کی مغیرہ حالت ؛ تراکیب میں مستعمل.
देखते دیکھتے
دیکھنا (رک) سے مشتق ، تراکیب میں مستعمل.
देखना دیکْھنا
جھلک دکھانا کا لازم
ہندی
देखनी دیکھنی
دیکھنا، نظر دوڑانا
اٹلی ہے دیکھنے کی چیز
سلمیٰ اعوان
خواتین کی تحریریں
خواب دیکھنے والو
نسیم نکہت
مجموعہ
اب جن کے دیکھنے کو
بیگم انیس قدوائی
ہے دیکھنے کی چیز
سرفراز شاہد
غزل
دیوان غالب
مرزا غالب
دیوان
دیوان ساغر صدیقی
ساغر صدیقی
دیوان میر
میر تقی میر
دیوان فرید
خواجہ غلام فرید
دیوان بیدم شاہ وارثی
بیدم شاہ وارثی
دیوان غالب جدید
دیوان چرکین
شیخ باقر علی چرکین
شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیںہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیےکہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیےمیں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے
تمہارے دل پہ اپنا نام لکھا ہم نے دیکھا ہےہماری چیز پھر ہم کو عنایت کیوں نہیں کرتے
بستی میں اپنی ہندو مسلماں جو بس گئےانساں کی شکل دیکھنے کو ہم ترس گئے
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیےان میں جا کر مگر رہا نہ کرو
میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوںدیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے
دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کمچاہنے کے لیے ایک چہرا بہت
میں اس کو دیکھنے کو ترستی ہی رہ گئیجس شخص کی ہتھیلی پہ میرا نصیب تھا
اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدندیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
دل تو کیا چیز ہے جان سے جائیں گے موت آنے سے پہلے ہی مر جائیں گےیہ ادا دیکھنے والے لٹ جائیں گے یوں نہ ہنس ہنس کے دلبر اشارہ کرو
ہم نے سب دکھ جہاں کے دیکھے ہیںبیکلی اس قدر نہیں ہوتی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books