aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "faiz-e-murshid-e-kaamil"
جشن کامل کمیٹی، لکھنؤ
ناشر
مطبع فیض منبع شام اودھ
دبستان کامل، کراچی
فیض عام پریس، میرٹھ
ماہ کامل پبلیکیشنز، دہلی
مطبع خاص فیض محمدی، لکھنؤ
مطبع فیض عام، دہلی
فیض عام پریس، علی گڑھ
مطبع فیض عام، علی گڑھ
ادارئہ فیض ادب، کراچی
کارکنان کامل، لاہور
فیض عام، بینگلور
ابن کامل باجوری
مترجم
مطبع فیض عام ، مظفر نگر
فیض عام پریس، لاہور
حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہےنظر حق آشنا ہوتی ہے پردہ دل سے اٹھتا ہے
دل رواں جس کا ہو اک مرشد کامل کی طرفکون روکے گا اسے جانے سے منزل کی طرف
جو مرشد کامل ہے وہ خورشید کے مانندبخشے ہے مریدوں کو ضیا کچھ نہیں کہتا
بیعت میں کس کے ہاتھ پہ ریشمؔ کروں بتابزم سخن میں مرشد کامل کوئی نہیں
پریشانی ہے ان کی لفظ کاملؔمٹائیں کیسے اس کو داستاں سے
سب سے پسندیدہ اور مقبول شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
کلاسیکی شاعری میں قاتل محبوب ہے ۔ اسی لئے محبوب کی بھوؤں کو تلوار اور پلکوں کو نیزہ سے تشبیہ عام ہے ۔ وہ اپنے انہیں اوزاروں ، جلوؤں اور اداؤں سے اپنے عاشقوں کا قتل کرتا ہے ۔ جدید شاعری میں قاتل عشق کے دائرے سے باہر نکل آیا ہے اور وہ اپنی تمام تر سماجی صورتوں کے ساتھ شاعری میں برتا گیا ہے ۔ معیاری شعروں کا ہمارا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا۔
صحبت مرشد کامل
جولین پی، جانسن
خطوط
مرشد کامل و پیر صادق
فیض مرشد
منشی قمر الدین قمر
قصیدہ
نسخۂ حکمت و نظر مرشد
نامعلوم مصنف
اخلاقیات
از بیرون گود
حکیم مرشد حسن
مقالات/مضامین
مجاہد آزادیٔ کامل
سید محمد اصغر
تحریک آزادی
وسیلہ مرشد
بہاء الدین شاہ
حقیقت اولیا حیات مرشد صوفی با صفا
مظہر لکھنوی
دین کامل
ذکر مرشد
غلام یحیی انجم
تذکرہ
دیوان مرشد
وشمہ خان وشمہ
مجموعہ
حدائق بخشش کامل
ریحان رضا خان
مقدمہ و متن کامل قانون اساسی
نور کامل
احسان کامل
محمد شاہ نواز خان احسانی
بن جاتا ہے پھر شیخ کا بھی مرشد کاملڈگتا نہیں پیتا ہے جو پیمانہ ہمارا
تجھے اس طرح بھی دیکھا کبھی ہم نے ماہ کاملؔکہ اٹھیں تری نگاہیں تو نظر بچا گئے ہم
صاحب دل ہے وہی مرشد کامل ہے وہیمیرے چہرے سے جو میرا غم پنہاں سمجھا
لوگ جا بھی پہنچے طوفانوں کے سینے چیر کرکشتیٔ کاملؔ کناروں میں الجھ کر رہ گئی
بجھ گئے سارے چراغ جسم و جاں تب دل جلاخلق کی خاطر ہمارا مرشد کامل جلا
واقعی کاملؔ بنانا چاہتی ہے گر مجھےتو مجھے زخم ہنر کی سیپیاں دے شاعری
آنے والوں کے بھیس میں کاملؔجانے والے یہاں چلے آئے
سنا ہے کاملؔ آیا ہے ابھی دشت جنوں سےچلو ہم بھی اسے ملنے چلیں گے جو بھی ہوگا
بہ فضل آبلہ پائی بہ فیض تشنہ لبیسراب ڈھونڈھ رہا ہے برہنہ پا مجھ کو
یہ بچے بھی اے کاملؔ ہیں شریر کس درجہلے چلے ہیں زاہد کو وعظ کے بہانے سے
جلا رہا ہوں میں شمع حیات اے کاملؔجہاں جہاں بھی اندھیرا ہے میرے ساتھ چلو
جو ہیں روح کاملؔ خستہ تن جو ہیں جان جاں جو ہیں جان منوہی درد و غم وہی فکر و فن مرے اشک و آہ میں ڈھل گئے
اب تمہیں موت ہی آ جائے تو بہتر کاملؔہم سے یہ حال تمہارا نہیں دیکھا جاتا
جھوم جاتے ہیں در و بام خوشی سے کاملؔوہ جب آتے ہیں تو گھر سارا مہک جاتا ہے
انکار نہ کر مے سے کاملؔ یہ کفر ہے کیا معلوم نہیںزاہد کی نہ سن لے ہاتھ بڑھا اک جام بہ اذن عام چلے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books