aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "futuur"
تاج الفحول اکیڈمی، بدایوں
ناشر
تنویر پھول
born.1948
مصنف
پھول محمد نعمت رضوی
دارالطبع فنون
مطبع عین الفیوض
شیخ ابوالفتوج رازی
جیمس فلر
ایڈ منڈ فلر
مطبع فنون و مذاق، حیدرآباد
پتر نرسنگھراج کپور
بدھا فٹ پرنٹ پبلیکیشنز، نئی دہلی
بزم فنون، کراچی
پھول بک ڈپو، دہلی
مکتبہ فنون، لاہور
روم نمبر1، فرسٹ فلور اعوان پلازہ شادمان مارکیٹ، لاہور
بدلنا چاہو تو دنیا بدل بھی سکتی ہےعجب فتور سا ہر وقت سر میں رہتا ہے
کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیاہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا
دور ترقی کیا ہے شکیلؔدنیا کی عقلوں کا فتور
ایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھیکہ ترے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتور
اک تازہ تر فتور مرے سر میں اور ہےجو کر چکا ہوں اس سے سوا کرنے آیا ہوں
بچوں کے لئے ١٠ منتخب اردو نظمیں
ایسے اشعار کا مجموعہ جس میں کسی خیال کو تسلسل سے پیش کیا جائے اسے قطعہ کہتے ہیں ۔یہ دو شعروں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں میں باہمی ربط ضروری ہوتا ہے اگر کسی غزل میں ایک سے زیادہ قطعات موجود ہوں تو اس غزل کو قطعہ بند غزل کہا جاتا ہے ۔
نئے سال کے موقے پر ہم آپکے ساتھ چنندہ نظمیں ساجھا کر رہے ہیں۔
फ़ुतूर فُتُور
سستی، اعضا کی سستی، ضعف، خلل
عربی
हुज़ूर حُضُور
موجودگی، حاضر ہونے کا عمل، حاضری (خارج میں ہو یا ذہن میں)، غیبت کا مقابل
ग़ुरूर غُرُور
گھمنڈ، تکبّر، نخوت، فخر
फ़ुज़ूल فُضُول
بے فائدہ، بے کار، بے سود، جو کسی کام کا نہ ہو، بے مصرف، فالتو، ایسی چیز جو لغو اور بے مقصد ہو، غیر ضروری اشیا وغیرہ
نور جہاں فتور جاں
طفیل اختر
شمارہ نمبر-003,004
احمد ندیم قاسمی
Jan 1969فنون، لاہور
فتوح البلدان
احمد بن یحییٰ
تاریخ
انڈا کیسے پھوٹا
محسن خاں
ڈراما
فتوح الغیب (اردو)
شیخ عبد القادر جیلانی
تصوف
ہند اسلامی تہذیب کا ارتقاء
عماد الحسن آزاد فاروقی
تہذیبی وثقافتی تاریخ
فصوص الحکم
محی الدین ابن عربی
فلسفہ تصوف
کلاسیکی یونان
حبیب حق
الفتح الربانی
قادریہ
سنگیت پھوہار
خالد ملک حیدر
موسیقی
اسلامی علوم و فنون ہندوستان میں
حکیم سید عبدالحئی
اسلامیات
اسلام اور فنون لطیفہ
نجات اللہ صدیقی
مقالات/مضامین
چیک کر کے میری کھوپڑی کہنے لگا حضوربھیجے میں گھس گیا ہے کوئی آپ کے فتور
میٹھی میٹھی تمہاری باتوں کےپس پردہ فتور کتنا ہے
محبتوں کا جو سر پر وبال رکھا ہےفتور عشق ہے اور ہم نے پال رکھا ہے
جو نیت کے فتور کو حسن خیال میںاور نتیجے کی اذیت کو حسن عمل میں بدل دے
ترے دماغ سے سارا فتور نکلے گامری وفا کا نتیجہ ضرور نکلے گا
سر تربت کوئی ہے فتنۂ حشرہوئی پیدا فتور کی صورت
آب و نان و ہوا نہیں کافیتیرے دل میں فتور لگتا ہے
سرمہ آنکھوں میں وہ لگاتے ہیںدیکھیے کیا فتور ہوتا ہے
کیوں دل کی آگ لے نہ خبر دور دور کیکوندی ہے ہر دماغ میں بجلی فتور کی
تمام شہر بیک وقت جل گیا کیسےمحافظوں کے دلوں میں فتور تھا کیا تھا
اسی فتور میں کرب و بلا سے لپٹے ہوئےتمام عمر گنوا دی انا سے لپٹے ہوئے
بیٹھے بیٹھے کا سفر صرف ہے خوابوں کا فتورجسم دروازے تک آئے تو گلی تک پہنچے
فتور مجھ میں نہیں ہے کوئی سبب تو ہوگادعائیں دیتا ہوا دہائی پہ آ گیا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books