aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gore"
ارزاں ہے مشت خاک سے انسان کی حیاتتہذیب قتل و خون میں اب زندگی کی خیر
بربریت کی جہاں میں گرم_بازاری ہوئیآدمیت کی رگوں میں خون ٹھنڈا ہو گیا
مردہ ہے دل تو گور ہے سینہداغ شمع_مزار سا ہے کچھ
ابراہیم اشکؔ
born.1951
شاعر
شبیر احمد خاں غوری
1911 - 2002
مصنف
سر گور اوزےلی
1770 - 1844
م۔ غوری
گورا پبلیشرز، لاہور
ناشر
سردار گو ربخش سنگھ
گوری سہائے
طاہر اسلم گورا
گوربچن سنگھ طالب
جے ۔ جے ۔ گھوس
مترجم
گوری پرشاد
منشی گور سہائے ملتجی
اظہر گوری
وہ گورے گورے چہروں پہ زلفیں ادھر ادھراختر سے وہ چمکتے ہوئے کان کے گہر
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارامٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
بارہا گور دل جھنکا لایااب کے شرط وفا بجا لایا
تلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالمیہ تو ہو کوئی گور غریباں میں در آوے
زندگی کی تلخ حقیقتیں بعض اوقات درد کی صورت میں نمایا ہوتی ہیں۔کرب کے اظہار کا متبادل شاعری سے بہتر کچھ نہیں جو ایسے وقت میں ہمیں نہ صرف ثابت رہنا سکھاتا ہے بلکہ زندگی کے تئیں ہماری جدوجہد کو جلا بخشتا ہے۔
کشتی ،ساحل ، سمندر ، ناخدا ، تند موجیں اور اس طرح کی دوسری لفظیات کو شاعری میں زندگی کی وسیع تر صورتوں کے استعارے کے طور پر برتا گیا ہے ۔ کشتی دریا کی طغیانی اور موجوں کی شدید مار سے بچ نکلنے اور ساحل پر پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ کشتی کی اس صفت کو بنیاد بنا کر بہت سے مضامین پیدا کئے گئے ہیں ۔ کشتی کے حوالے سے اور بھی کئی دلچسپ جہتیں ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
رات کا استعارہ شاعری میں معنیاتی لحاظ سے بہت متنوع اور پھیلا ہوا ہے ۔ رات اپنی سیاہی اور تاریکی کے حوالے سے زندگی کی منفی صورتوں کی علامت کے طور پر بھی برتی گئی ہے ساتھ ہی روشنی کی چکا چوند اور اس کی اذیت کے مقابلے میں سکون اور تنہائی کے استعارے کے طور پر بھی ۔ رات کے اس متضاد اور دلچسپ شعری بیانیے کو پڑھئے ۔
gore gore
منجمد خون
गोरे گورے
سُرخ وسفید رنگ والا، سفید، اُجلا، انسان کے واسطے مستعمل ہے
गिरे گِرے
گِرا (گرنا کا صیغۂ ماضی) کی جمع، نیز مغیرہ حالت، مرکبات میں مستعمل
गोटे گوٹے
گوٹا کی جمع
کالا شہر گورے لوگ
احسان الحق
ناول
Biographical Notices Persian Poets
سوانح حیات
ہم گور غریباں میں
شہنشاہ حسین رضوی
تحقیق
بایئوگرافکل نوٹیسس آف پرشین پوئتس
گورے کالے لوگ
مینا ناز
گور غریباں
پرکاش سٹیم پریس، لاہور
غزل
غار حرا میں ایک رات
مستنصر حسین تارڑ
گوری ہو گوری
رفیق حسین
افسانہ
تاریخ مرثیہ گوئی
حامد حسن قادری
مرثیہ
اسلامی منطق و فلسفہ
منطق
سمندر اگر میرے اندر گرے
وزیر آغا
مضامین
لینڈ اسکیپ کے گھوڑے
مشرف عالم ذوقی
اسلامی ہند میں کلام و فلسفہ
ہندوستانی تاریخ
اگر تم مل گئے ہوتے
دلشاد ادیب
مجموعہ
کوثر صدیقی کی رباعی گوئی
جاوید یزدانی
بس اشک کہوں تو اک آنسوترے گورے گال کو دھو جائے
گورے جیسے کالے دیکھےبھولے جیسے بھالے دیکھے
پلٹن اور رسالے دیکھےگورے دیکھے کالے دیکھے
خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیںچراغ مردہ ہوں میں بے زباں گور غریباں کا
بوسہ نہ دے وہ مجھ کو تو میں اس کو دل نہ دوںاس گورے ہاتھ سے جو اشارے ہوئے تو کیا
اے صبا اوروں کی تربت پہ گل افشانی چندجانب گور غریباں بھی کبھی آیا کر
عجب دنیائے حیرت عالم گور غریباں ہےکہ ویرانے کا ویرانہ ہے اور بستی کی بستی ہے
جب مرزا قید سے چھوٹ کر آئے تومیاں کالے صاحب کے مکان میں آکر رہے تھے۔ ایک روز میاں صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے آکر قید سے چھوٹنے کی مبارکباد دی۔ مرزا نے کہا، ’’کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے!...
جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتیکچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں
ٹک گور غریباں کی کر سیر کہ دنیا میںان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہوگا
ابر جھکا ہے چاند کے گورے مکھڑے پرچھوڑو لاج لگو دل سے منہ موڑو مت
دیسی ہوں یا پردیسی ہوںنیلے پیلے گورے کالے
گور کافر کس لیے ہے تیرہ و تار اس قدرپڑ گیا سایہ مگر میری شب دیجور کا
یہ پیرہن میں ہے اس گورے گورے تن کی جھلککہ جس کے سامنے موتی کی آب ہے کیا چیز
گورے گالوں سے نہ سرکاؤ سیہ زلفوں کوخوف ہے مجھ کو نہ ہو جائے سحر آج کی رات
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books