aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "in.iqaad"
نند کشور اںہد
born.1998
شاعر
بشیر النساء بیگم
اعتقاد پبلیشنگ ہاؤس، نئی دہلی
ناشر
انتقام الحسنین منتقم حیدری
مصنف
جگدیش آنند ادیب
مدیر
یونائیٹڈ بک کارپوریشن
اعتقاد حسین صدیقی
انجمن اتحاد جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی
یونائیٹیڈ پرنٹرس، کرنلو
الکا رنجن
اتحاد بک ڈپو، خورجہ
اعتماد صدیقی
محمد اعتماد علی خان
اتحاد پبلیکیشنز، حیدرآباد
جمعیۃ اتحاد امداد باہمی، حیدرآباد
آتش و انجماد ہے مجھ میںکیسا کیسا تضاد ہے مجھ میں
نمی تھی آنکھ میں لیکن اک اعتماد بھی تھامجھے تو حوصلہ جینے کا اس کے بعد بھی تھا
کسی کی یاد شہادت کا انعقاد کیاذرا سی دیر لگی آسماں بلاتے ہوئے
یاد میں ایک مرنے والے کیآج محفل کا انعقاد کریں
اخترؔ ہو جشن سیرت حضرت جگہ جگہبے شک اس انعقاد کا اجر عظیم ہے
انتقام بدلہ لینے کا شدید ترین جذبہ ہے ۔ یوں تو انتقام کی صورتیں بہت گھناونی ہوتی ہیں لیکن شاعرمیں انتقام کلاسیکی عشق کی کہانی کا ایک موڑ ہوتا ہے جہاں عاشق اپنے ناختم ہونے والے ہجر کی توجیہ کسی دشمن کے انتقامی جذبے سے کرتا ہے۔ عاشق کا دشمن اس کا محبوب نہیں ہوتا بلکہ تقدیر اور آسمان عاشق کے دشمن کے کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں جو محبوب اور اس سے وصال کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں ۔
جانور
अनीक़ाاَنِیْقَہ
انیق ( رک ) کی تانیث ( بیشتر مسجع اردو میں عموماً نمیقہ کے ساتھ مستعمل ) ۔
इं'इक़ादاِنعِْقاد
عربی
(کسی جلسے یا محفل وغیرہ کا) منعقد کیا جانا، برپا ہونا، منعقد ہونا
ए'तिक़ादاِعْتِقاد
یقین، پختگی سے کوئی بات دل میں ہونا
enneadennead
نوکا مجموعہ، نورتن۔.
میر کی کویتا اور بھارتیہ سندریہ بود
شمس الرحمن فاروقی
شاعری تنقید
اصول انتقاد ادبیات
سید عابد علی عابد
زبان و ادب
البدیع
جناح اتحاد سے تقسیم تک
جس ونت سنگھ
تاریخ
انتقاد
تنقید
بر صغیر کا ڈراما
اسلم قریشی
غلامی کا انسداد یا غریب کی دنیا
لیو ٹالسٹائی
غلامی کا انسداد
آتش انتقام
ارل ڈربگرز
جاسوسی
ہندو مسلم اتحاد کی تدابیر
منشی رام پرشاد ماتھر
مقالات/مضامین
مرصادالعباد
خواجہ نجم الدین کبریٰ
ترجمہ
اسلوب اور انتقاد
سلیمان اطہر جاوید
عرب کا ارتداد اور اس کا بزور انسداد
خواجہ حسن نظامی
سیرت خیر العباد
ابن قیم الجوزیہ
سوانح حیات
ذوق : سوانح اور انتقاد
تنویر احمد علوی
حقوق انساں پہ لیکچر کا انعقاد ہواالگ کیے گئے کچھ بچے گیلری کی طرف
باوجود ادعائے اتقا حسرتؔ مجھےآج تک عہد ہوس کا وہ فسانا یاد ہے
حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملےمدعا ہم کو انتقام سے ہے
دیوار جانتا تھا جسے میں وہ دھول تھیاب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی
جس دن سے اعتماد میں آیا ترا شباباس دن سے تجھ پہ ظلم ہی ڈھاتا رہا ہوں میں
ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکنطوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئےیہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے
ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقامقدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books